بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

ذکر کے لیے باوضو ہونا شرط نہیں


سوال

 کیاہم اپنے اوراد ،وظائف، تسبیح بغیر وضو کے پڑھ سکتے ہیں؟

جواب

اوراد،وظائف اور تسبیحات کے لیے باوضو ہونا شرط نہیں،بغیر وضو کے بھی ذکرو اذکار کرسکتے ہیں،البتہ باوضو ذکر کرنا افضل ہے۔

الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:

"(ولا بأس) لحائض وجنب (بقراءة أدعية ومسها وحملها وذكر الله تعالى، وتسبيح)

(قوله ولا بأس) يشير إلى أن وضوء الجنب لهذه الأشياء مستحب كوضوء المحدث وقد تقدم ح أي لأن ما لا بأس فيه يستحب خلافه."

(باب الحیض،ج1،ص293،ط؛سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144507102081

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں