بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 صفر 1443ھ 28 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

زیرِ ناف بالوں کو کریم سے مستقل ختم کرنا


سوال

زیرِ  ناف بالوں کو اگر ایسی کریم وغیرہ سے صاف کریں کہ وہ ہمیشہ کے لیے نہ اُگیں تو کیا یہ درست ہے؟

جواب

مردوں کے لیے زیرِ ناف بال استرے/ بلیڈ/ ریزر  وغیرہ سے صاف کرنا اَولی ہے،عورتوں کے لیے چٹکی یا چمٹی سے اکھاڑنا مستحب ہے، تاہم فرض یا واجب نہیں، زیرِ ناف صفائی کے لیے دیگر ذرائع استعمال کرنا بھی جائز ہے، مقصود صفائی ہے؛ لہذا صورتِ مسئولہ میں ایسی کریم  سے بال صاف کرنے کی گنجائش ہے جس سے بال ہمیشہ کے لیے صاف ہوجائیں بشرطیکہ جسمانی صحت کے لحاظ سے مضر نہ ہو۔

قال ابن عابدین رحمه الله تحت قوله: ویستحب حلق عانة:

                 "قال في الهندیة: و لو عالج بالنورة یجوز، کذا في الغرائب، و في الأشباه: و السنة في عانة المرأة النتف." (۵، ؍۲۶۱)

فقط واللہ اعلم                                


فتوی نمبر : 144110200631

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں