بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو القعدة 1445ھ 18 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

زیر استعمال زیورات پر زکوٰۃ کا حکم


سوال

1- ایک عورت کے پاس 10سے11 لاکھ کا سونا اور چاندی ہے پورے سال میں مختلف مواقع  پر باری باری کر کے استعمال کرتی ہے اس پر زکوٰۃ کا کیا حکم ہے؟

2-دوسرا اس نے زیور خریدا ہے  سال پورا نہیں ہوگیا تھا کہ سات مہینے بعد رمضان المبارک آیا اس پر وہ عورت زکوٰۃ کیسے ادا کر ے گی؟

جواب

1-  زیورات سونا یا چاندی کے ہوں  اور اگر نصاب کے برابر ہوں تو اس  کی زکوٰۃ نکالنا لازم ہے، چاہے استعمال کرے یا نہ کرے  ؛  لہذا صورتِ  مسئولہ میں جس  دن سے یہ زیورات کی مالک ہوئی اس دن کی قمری تاریخ یاد رکھے ایک سال کے بعد پھر جب یہی قمری تاریخ آئے گی تو ڈھائی فیصد زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے۔

2- صورتِ  مسئولہ میں اگر یہ عورت پہلے سے صاحب نصاب چلی آرہی ہے اور رمضان المبارک میں زکوٰۃ نکالتی ہے تو سابقہ اموال زکوٰۃ کے ساتھ رمضان المبارک سے سات ماہ قبل خریدے ہوئے زیورات کی بھی زکوٰۃ ادا کرے گی، اور اگر یہ عورت پہلے سے صاحب نصاب نہیں تھی لیکن مذکورہ زیورات خریدنے سے صاحب نصاب بنی ہے تو اس زیور پر سال گزرنے سے زکوٰۃ واجب ہوگی اگر چہ سات ماہ بعد رمضان المبارک کا مہینہ آجائے اس سے فرق نہیں پڑتا پورا سال گزرنے پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔

الفقه الاسلامي و أدلته میں ہے:

''و قال الحنفية: الزكاة واجبة في الحلى للرجال و النساء تبرا كان أو سبيكة آنية أو غيرها.''

(الفصل الاول، الزكاة مطلب زكاة الحلى، ج: 3، ص: 828، ط: دار الفکر )

فتاویٰ شامی میں ہے

''(واللازم في مضروب كل) منهما (و معموله و لو تبرا أو حليا مطلقا ) مباح الاستعمال أو لا و لو للتجمل و النفقة لانهما خلقا اثمانا فيزكيهما كيف كان.''

(كتاب الزكاة، باب زكاة المال، ج: 2، ص: 297/298، ط: سعید)

فتاویٰ ھندیہ میں ہے:

''و من كان له نصاب فاستفاد في أثناء الحول مالا من جنسه ضمه إلى ماله وزكاه سواء كان المستفاد من نمائه أو لا وباى وجه استفاد ضمه سواء كان بميراث أو هبة أو غير ذلك.''

(كتاب الزكاة، ج:1، ص:175، ط: مکتبہ ما جدیہ)

البحر الرائق میں ہے:

''و المراد بكونه حوليا أن يتم الحول عليه و هو في ملكه لقوله عليه الصلاة والسلام (لا زكاة في مال حتى يحول عليه الحول) قال في الغاية سمي حولا لأن الاحوال تحول فيه. وفي القنية: العبرة في الزكاة للحول القمري.''

(كتاب الزكاة، ج:2، ص: 356، ط: دار الكتب العلمية)

فقط والله  اعلم


فتوی نمبر : 144408101737

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں