بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1444ھ 08 اگست 2022 ء

دارالافتاء

 

زیر ناف بالوں کی صفائی میں تاخیر کا حکم


سوال

میں  مصروفیات کی وجہ سے نجاست کے بال بہت دنوں کے بعد صاف کر سکتا ہوں، اس پر کوئی وعید یا کوئی حکم ہے ؟یا جلد صاف کرنے کی کوئی حکمت ہے کہ نہیں؟

جواب

حدیث شریف میں زیرِ ناف بالوں کی صفائی کو   امورِفطرت میں سے بیان کیا گیا ہے، اورمسنون یہ ہےکہ ہر ہفتے میں جمعہ کے دن  جسمانی  صفائی کا یہ کام کیا جائے، دو ہفتوں میں ایک بار کرنا جائز ہے، اور آخری حد 40دن تک کی ہے، چالیس دن سے زیادہ تاخیر کرنا مکروہِ تحریمی اور گناہ کا باعث ہے، اور اس میں نجاست کے باقی رہ جانے کا اندیشہ بھی ہوتا ہے۔

صحيح مسلم ميں هے:

"عن ‌أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: « ‌الفطرة ‌خمس: الاختتان، والاستحداد، وقص الشارب، وتقليم الأظفار، ونتف الإبط."

(كتاب الطهارة، باب خصال الفطرة، ج:1، ص:153، رقم:257، ط:دار المنهاج)

و فیہ ایضاً:

"قال أنس:  ‌وقت ‌لنا في قص الشارب، وتقليم الأظفار، ونتف الإبط، وحلق العانة أن لا نترك أكثر من أربعين ليلة."

(كتاب الطهارة، باب خصال الفطرة، ج:1، ص:153، رقم:258، ط:دار المنهاج)

ترجمہ : حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مونچھیں ترشوانے اور ناخن لینے اور بغل اور زیرِ ناف کی صفائی کے سلسلہ میں ہمارے واسطے حد مقرر کر دی گئی ہے کہ ۴۰ روز سے زیادہ نہ چھوڑیں ۔

رد المحتار میں ہے:

"(و) يستحب (حلق عانته وتنظيف بدنه بالاغتسال في كل أسبوع مرة) والأفضل يوم الجمعة وجاز في كل خمسة عشرة وكره تركه وراء الأربعين، مجتبى.

 (قوله: وكره تركه) أي تحريماً لقول المجتبى: ولا عذر فيما وراء الأربعين ويستحق الوعيد اهـ وفي أبي السعود عن شرح المشارق لابن ملك: روى مسلم عن أنس بن مالك: «وقت لنا في تقليم الأظفار وقص الشارب ونتف الإبط أن لانترك أكثر من أربعين ليلةً». وهو من المقدرات التي ليس للرأي فيها مدخل فيكون كالمرفوع اهـ"

(كتاب الحظر و الإباحة، ج:6، ص:406-407،ط:ايچ ايم سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144312100314

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں