بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 محرم 1446ھ 19 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

ذی الحجہ کی فضیلت


سوال

ذو الحجہ کی کیا فضیلت ہے؟

جواب

ذوالحجہ کے مہینے کی دیگر مہینوں پر یہ فضیلت ہے کہ اللہ تعالی نےاس میں دو بڑی عبادات کو یکجا کیا ہےجو کسی اور مہینے میں ادا نہیں کی جاسکتی،ایک حج اور دوسری قربانی،ان خصوصی عبادات کے لیے اس مہینے کا انتخاب اس کی فضیلت کو واضح کررہا ہے،نیزاس ماہ کے ابتدائی عشرے کی فضیلت قرآن کریم اور احادیثِ طیبہ سے ثابت ہے۔
قرآن مجید میں سورۃ"والفجر"میں اللہ تعالی نے دس راتوں کی قسم کھائی ہے،اور وہ دس راتیں جمہورکے قول کے مطابق یہی ذی الحجہ کی ابتدائی راتیں ہیں،اللہ تعالی کا ان راتوں کی قسم اٹھاناان کی عظمت اور ذی شان ہونے کی دلیل ہے۔
احادیث مبارکہ میں بھی ذی الحجہ کی ابتدائی دس دنوں کی بہت فضیلت آئی ہے۔
رسول اللہ ﷺنے فرمایاکہ عبادت کرنے کے لیےاللہ تعالی کے نزدیک سب دنوں میں ذی الحجہ کےابتدائی دس دن سب سے افضل ہیں،اس کے ہر دن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابراور اس میں ہر رات کی عبادت شب قدر کی برابر ہے۔
حضورﷺکا ارشاد مبار ک ہےکہ عمل صالح جس قدر ان دنوں میں مقبول ہے،کسی دوسرے دنوں میں نہیں،بعض روایتوں سے معلوم ہوتاہےکہ ان دس راتوں کی عبادت لیلۃ القدر جیسی فضیلت رکھتی ہے،ان ایام میں اللہ تعالی کا خاص تقرب حاصل کیا جاتاہے۔
حضورﷺنے فرمایا کہ جو شخص یوم عرفہ یعنی نو ذی الحجہ کا روزہ رکھےگا، مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اللہ تعالی اس کے  ایک سال پچھلے اور ایک سال اگلے  کے گناہ معاف کردےگا۔

سنن ترمذی میں ہے:

"عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ما من أيام أحب إلى الله أن يتعبد له فيها من ‌عشر ‌ذي ‌الحجة، يعدل صيام كل يوم منها بصيام سنة، وقيام كل ليلة منها بقيام ليلة القدر."

(ابواب الصوم  عن رسول اللہﷺ،باب ماجاء فی العمل فی ایام العشر،122/2،ط:دار الغرب الاسلامی بیروت)

وفیہ ایضاً:

" عن أبي قتادة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: صيام يوم عرفة إني أحتسب على الله أن يكفر السنة التي قبله والسنة التي بعده."

(ابواب الصوم  عن رسول اللہﷺ،باب ماجاء فی فضل صوم یوم عرفہ،115/2،ط:دار الغرب الاسلامی بیروت)

تفسیر روح المعانی میں ہے:

"وقد أخرج أحمد والبخاري عن ابن عباس مرفوعا: ما من أيام فيهن العمل أحب إلى الله عز وجل وأفضل من أيام العشر،قيل:يا رسول الله ولا الجهاد في سبيل الله؟ قال: «ولا الجهاد في سبيل الله إلا رجل جاهد في سبيل الله بنفسه وماله فلم يرجع من ذلك بشيء."

(سورۃ الفجر،آیت 334/15،2،ط:دار الکتب العلمیۃبیروت)
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144511102763

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں