بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 ذو القعدة 1446ھ 04 مئی 2025 ء

دارالافتاء

 

زہنی ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے خلع کا حکم


سوال

2017 میں میرے گھر والوں نے میری رضامندی کے بغیر میری پھوپھو کے بیٹے سے میری شادی کروا دی، اور اب ہماری ایک تین سال کی بیٹی ہے، تب سے اب تک ہماری ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے کبھی نہیں بنی، جس کی وجہ سے اب میں نے علیحدگی کا فیصلہ کیا ہے، اور ستمبر 2024 سے میں اپنی مرضی سے  اپنی امی کے گھر میں ہوں، اس وقت سے اب تک میرے شوہر نے  صرف ستمبر کا خرچہ دیا ہے اس کے علاوہ پچھلے تین ماہ سے بچی کا کوئی خرچہ نہیں دیا، وہ یہ کہتے ہیں کہ تم ماں ہو، تم خرچ کر لو تو کیا فرق پڑ جاۓ گا؟میں جاب کرتی ہوں اور تین سال سے بیٹی کی پیدائش کے بعد سے  گھر کا خرچ میں ہی چلا رہی ہوں، وہ کہتے ہیں کہ میری محدود تنخواہ ہے  تو میں گھر نہیں چلا سکتا۔
میرے شوہر مجھے چھوڑنا نہیں چاہتے، وہ چاہتے ہیں کہ یہ رشتہ اسی طرح  چلتا رہے، مگر میں مزید ان کے ساتھ رہی تو میں ذہنی مریضہ بن جاؤں گی،لہذا میں کورٹ سے خلع لینا چاہتی ہوں۔

مجھے بتائیے کہ ان حالات میں  شریعت کی رو سے میرے  لیے  کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ میاں بیوی کا رشتہ قاعدوں اور ضابطوں کے بجائے حسن اخلاق سے نبھایا جائے تو یہ رشتہ کامیاب رہتا ہے، ضابطہ کی روسے جہاں بہت ساری ذمہ داریاں بیوی پر عائد نہیں ہوتیں وہیں شوہر بھی بہت سے معاملات میں بری الذمہ ہوجاتا ہے، لیکن دوسری طرف حسنِ معاشرت کا تقاضا اور بیوی کی سعادت ونیک بختی اس میں ہے کہ وہ شوہر  کی خدمت بجا لائے نیز اگر کبھی شوہر کسی خدمت کا حکم دے تو اس صورت میں بیوی پر اس کی تعمیل واجب ہوجاتی ہے، شوہرکی خدمت ،تابعداری اوراطاعت کے سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بے شمار ارشادات موجود ہیں۔

چناں چہ مشکاۃ المصابیح میں ایک حدیث میں ہے:

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لو كنت آمر أحداً أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها». رواه الترمذي."

(ج:2، ص:281، باب عشرۃ النساء، ط:قدیمي)

ترجمہ:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:اگرمیں کسی کویہ حکم کرتاکہ وہ کسی (غیراللہ)کوسجدہ کرے تومیں یقیناًعورت کوحکم کرتاکہ وہ اپنے خاوندکرسجدہ کرے۔

صاحبِ مظاہرحق اس کے ذیل میں لکھتے ہیں:

''مطلب یہ ہے کہ رب معبودکے علاوہ اورکسی کوسجدہ کرنادرست نہیں ہے اگرکسی غیراللہ کوسجدہ کرنادرست ہوتاتومیں عورت کوحکم دیتاکہ وہ اپنے خاوندکوسجدہ کرے،کیوں کہ بیوی پراس کے خاوندکے بہت زیادہ حقوق ہیں،جن کی ادائیگی کرنے سے وہ عاجز ہے، گویا اس ارشاد گرامی میں اس بات کی اہمیت و تاکیدکوبیان کیاگیاہے کہ بیوی پراپنے شوہرکی اطاعت وفرمانبرداری واجب ہے۔"

"حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکہتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم میں بہترین شخص وہ ہے جواپنے اہل (بیوی، بچوں، اقرباء  اور خدمت  گاروں) کے حق میں بہترین ہو، اورمیں اپنے اہل کے حق میں تم میں بہترین ہوں۔"

اسی طرح شادی کے بعد میاں بیوی دونوں پر ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی ضروری ہے، ا س کے بغیر پرسکون زندگی کاحصول محال ہے، شریعتِ مطہرہ  میں میاں بیوی کے باہمی حقوق کو  بہت اہمیت  کے ساتھ  بیان  کیا گیا ہے اور  دونوں کو ایک دوسرے کے حقوق کے بہت تاکید کی گئی ہے، اس بارے میں چند احادیث مندرجہ ذیل ہیں:

شوہر کے حقوق: 

جو عورت شوہر  کی نافرمانی کرے احادیثِ مبارکہ میں ایسی عورت سے متعلق سخت وعیدیں آئی ہیں، اور جو عورت شوہر کی فرماں برداری  اور اطاعت کرے اس کی بڑی فضیلت  بیان  کی گئی ہے۔

مشکاة المصابیح میں ہے:

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فأبت فبات غضبان لعنتها الملائكة حتى تصبح."

(باب عشرة النساء، ج:2، ص:280، ط:قدیمي)

ترجمہ:

”رسول کریم ﷺ نے فرمایا: اگر کوئی مرد اپنی عورت کو ہم بستر ہونے کے لیے بلائے اور وہ انکار کردے، اور پھر شوہر (اس انکار کی وجہ سے) رات بھر غصہ کی حالت میں رہے  تو فرشتہ اس عورت پر صبح تک لعنت بھیجتے  رہتے ہیں۔“

(مظاہر حق، ج:3، ص:358، ط:دارالاشاعت)

خلاصہ یہ ہے کہ بیوی کو چاہیے  کہ وہ اپنے شوہر کو اپنے سے بالاتر سمجھے،  اس کی وفادار اور فرماں بردار رہے، اس کی خیرخواہی اور رضا جوئی میں کمی نہ کرے، اپنی دنیا  اور آخرت کی بھلائی  اس کی خوشی سے وابستہ سمجھے،  اور شوہر کو چاہیے کہ  وہ اپنی بیوی کو اللہ کی عطا کی ہوئی نعمت سمجھے،  اس  کی قدر اور اس سے محبت  کرے، اگر اس سے غلطی ہوجائےتو چشم پوشی  سے کام لے، صبروتحمل اور دانش مندی سے اس کی  اصلاح کی کوشش کرے،  اپنی استطاعت کی حد تک اس کی ضروریات اچھی طرح پوری کرے، اس کی راحت رسانی اور دل جوئی کی کوشش کرے۔

ان سب کے باوجود بھی اگر  شادی کے بعد بھی میاں بیوی کے درمیان اختلافات  پیدا ہوجائیں تو دونوں کو چاہیے کہ باہمی رضامندی اور صلح صفائی کے ساتھ آپس کے اختلافات کو ختم کرکے ایک دوسرے کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی گذاریں،اگر دونوں کے درمیان بات نہ بنے تو دونوں کے خاندان کے بڑوں کو چاہیے کہ دونوں کے درمیان صلح صفائی کرائیں،اس کے باوجودبھی اگر دونوں کے درمیان نبھاؤ کی کوئی صورت نہ بنتی ہو اور میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے ہوں، اور میاں بیوی کو طلاق بھی نہیں دے رہا ہو تو بیوی کو چاہیے کہ شوہر کو طلاق کے لیے راضی کرے، اگر وہ اس پر راضی ہو جائے تو بہتر ،   ورنہ   حق مہر کی واپسی یا معافی کے عوض شوہر سے خلع کا مطالبہ کرے، اس کے علاوہ سوال میں ذکر کردہ وجوہات  کی بناء پر خلاصی  کی کوئی صورت نہیں بنتی ہے۔

صورتِ مسئولہ میں چونکہ  میاں بیوی کےمزاج نہیں ملتےہیں، تو بیوی کو چاہیے کہ شوہر کو طلاق کے لیے راضی کرے، اگر وہ اس پر راضی ہو جائے تو بہتر ،   ورنہ   حق مہر کی واپسی یا معافی کے عوض شوہر سے خلع کا مطالبہ کرے ، اگر شوہر خلع دینے پربھی راضی  نہ ہو  اور اوپر ذکر کی گئی عدالت سے خلع کی وجوہات میں سے کوئی  وجہ بھی نہ پائی جا رہی ہو تو پھر بیوی عدالت سے فسخِ نکاح نہیں کر واسکتی ہے ، اگر بیوی نے عدالت سے فسخِ نکاح کر وابھی لیا تو وہ شرعًا معتبر نہیں ہوگا۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية."

(کتاب الطلاق، الباب الثالث في الخلع، ج:1، ص:488، ط:دار الفکر)

مبسو طِ سرخسی میں ہے:

"والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض."

(کتاب الطلاق، باب الخلع، ج:6، ص:176، ط:دار المعرفہ بیروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144607101606

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں