بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ذو الحجة 1443ھ 04 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

زیان نام کا معنی


سوال

زیان نام کا کیا معنی ہے؟

جواب

’’زیان‘‘ لفظ فارسی اور عربی دونوں لغات میں مستعمل ہے، البتہ دونوں لغات میں تلفظ اور معنیٰ میں بہت فرق ہے۔

ہمارے ہاں اس کا عمومی استعمال فارسی زبان کے مطابق ہے، چناں چہ "زیان"/ "زیاں" (زا کے نیچے زیر اور یا کے اوپر فتحہ بغیر تشدید کے) کا معنی ہے: نقصان، ضرر اور خسارہ، لہذا یہ نام رکھنا درست نہیں۔

البتہ عربی میں "زیان" (زا پر زبر، ی پر تشدید اور زبر ) زین سے مستعمل ہوسکتاہے، جس کا معنیٰ زینت ہے، "زیان" کا معنیٰ ہوگا مزین، زینت والا۔ اس تلفظ اور معنیٰ کے لحاظ سے نام رکھ سکتے ہیں۔

 زیان سے ملتا جلتا نام ’’ریان‘‘  رکھ لیں جس کا معنی ہے:  سیراب کرنے والا، جنت کے آٹھ دروازوں میں سے ایک دروازے  کا نام ریان ہے جو کہ کثرت سے روزہ رکھنے والوں کے داخل ہونے کے لیے مخصوص ہے۔ یہ نام بھی رکھ سکتے ہیں۔

لسان العرب میں ہے:

"قال الأزهري: سمعت صبيا من بني عقيل يقول لآخر: وجهي زين ووجهك شين؛ أراد أنه صبيح الوجه وأن الآخر قبيحه، قال: والتقدير وجهي ذو زين ووجهك ذو شين، فنعتهما بالمصدر كما يقال رجل صوم وعدل أي ذو عدل. ويقال: زانه الحسن يزينه زينا."

(فصل الزای جلد ۱۳ ص : ۲۰۱ ط : دارصادر ۔ بیروت)

المعجم الوسیط میں ہے:

"(الزيان) كل ما يتزين به.

(الزين) كل ما يزين (ج) أزيان والحسن وهي زينة يقال امرأة زينة.

(الزينة) الزيان ويوم الزينة يوم العيد أو يوم كسر سد الخليج بمصر (ج) زين."

(باب الزای جلد ۱ ص : ۴۱۰ ط : دارالدعوۃ)

مصباح المنیر میں ہے:

"‌زان الشيء صاحبه زينا من باب سار وأزانه إزانة مثله والاسم الزينة وزينته تزيينا مثله والزين نقيض الشين."

(جلد ۱ ص : ۲۶۱ ط : المکتبة العلمیة ۔ بیروت)

فقط و اللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144310100798

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں