بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

زوالِ آفتاب اور غروبِ آفتاب کے وقت تلاوۃِ قرآن کریم کاحکم


سوال

کیا صبح کے اوقات کے علاوہ شام کو گھر یا دوکان پر خیر و برکت کے لیے تلاوت قرآن پاک کرنا درست ہے یا نہیں؟ کیوں کہ اکثر لوگ کہاں کرتے ہیں کہ زوال سے پہلے پہلے تلاوت کرنا چاہیے ۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں زوالِ آفتاب  اورغروبِ  آفتاب کے وقت خیروبرکت کے لیے قرآن شریف کی تلاوت کرنا ممنوع نہیں ہے، بلا کراہت جائز ہے،البتہ (طلوع ،غروب  اور استواءِ شمس) ان اوقاتِ مکروہہ میں قرآن شریف پڑھنے کے بجائے درود شریف ،تسبیح وغیرہ ذکراللہ میں مشغول رہنا زیادہ افضل اور اولیٰ ہے۔

النہرالرائق میں ہے:

"وفي البغية: الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم في الأوقات التي تكره فيها الصلاة والدعاء والتسبيح أفضل من قراءة القرآن۔ ولعله؛ لأن القراءة ركن الصلاة وهي مكروهة، فالأولى ترك ما كان ركناً لها، والتعبير بالاستواء أولى من التعبير بوقت الزوال ؛ لأن وقت الزوال لا تكره فيه الصلاة إجماعاً، كذا في شرح منية المصلي."

(كتاب الصلاة ،ج:1،ص:166،ط:دارالكتب العلمية)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144404100227

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں