بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

زوال کا وقت


سوال

دن اور رات میں زوال کے اوقات کون کون سے ہیں اور ان کا دورانیہ کتنا ہوتا ہے؟

جواب

سورج کے طلوع اور غروب کے درمیان کسی بھی دن  جتنا بھی فاصلہ ہو تا ہے ،اس کے عین نصف کو وقتِ نصف النہار حقیقی یا وقتِ استواءکہتے ہیں ،یہ وہ وقت ہوتا ہے جب سورج عین  سمت الراس (انتہائی بلندی)پر پہنچ جاتا ہے ،اسی کو زوال کے(مکروہ وقت ) سے بھی تعبیر کر دیتے ہیں ،(ورنہ حقیقتاً سورج کا زوال اس کے بعد شروع ہوتا ہے ،جو کہ ظہر کی نماز کا ابتدائی وقت ہے )۔چوں کہ سورج کی پوری ٹکیہ کا حجم 32دقیقہ ہے ،اور اسے سمت الراس(ہمارے سر کی جانب آکروہاں )سے گزرنے میں 2 منٹ اور 8 سیکنڈ لگتے ہیں ،اس لیے اصل مکروہ وقت تو یہی ہے ،لیکن احتیاطاًوقتِ استواء سے پانچ منٹ پہلے اور پانچ منٹ بعد تک نماز نہیں پڑھنی چاہیے ۔

رات میں زوال کا وقت نہیں ہوتا۔ بعض عوام میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ دن کی طرح رات میں بھی زوال ہوتاہے، اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ رات بارہ بجے نماز پڑھنا منع ہے، حال آں کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ لہٰذا پوری رات میں کسی بھی وقت نفل یا قضا نماز پڑھنا بلاکراہت جائز ہے۔ البتہ عشاء کی نماز  بلاعذر آدھی رات سے زیادہ تاخیر کرکے ادا کرنا مکروہ ہے، تاہم اس صورت میں بھی عشاء کی نماز ادا ہوجاتی ہے، اور اگر کسی عذر کی وجہ سے عشاء کی نماز میں تاخیر ہوجائے تو آدھی رات کے بعد بھی بلاکراہت اسے ادا کرنا جائز ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ولا ‌يخفى أن زوال الشمس إنما هو عقيب انتصاف النهار بلا فصل، وفي هذا القدر من الزمان لا يمكن أداء صلاة فيه، فلعل أنه لا تجوز الصلاة بحيث يقع جزء منها في هذا الزمان، أو المراد بالنهار هو النهار الشرعي وهو من أول طلوع الصبح إلى غروب الشمس، وعلى هذا يكون نصف النهار قبل الزوال بزمان يعتد به. اهـ. إسماعيل ونوح وحموي:

(‌‌كتاب الصلاة،٣٧١/١،ط: دار الفكر - بيروت)

آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے :

’’اوقات کے نقشوں میں جو زوال کا وقت  لکھا ہوتا ہے، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے بعد نماز جائز ہے، زوال میں تو زیادہ منٹ نہیں لگتے، لیکن احتیاطاً نصف النہار سے ۵ منٹ قبل اور ۵ منٹ بعد نماز میں توقف کرنا چاہیے‘‘۔ (ج۳ / ص۲۰۷) 

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144410100074

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں