بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

زوال کا وقت


سوال

دن اور رات میں زوال کے اوقات کون کون سے ہیں اور ان کا دورانیہ کتنا ہوتا ہے؟

جواب

پورا سورج  32 دقیقہ ہے اور اسے خط سے گزرنے میں 2 منٹ اور 8 سیکنڈ لگتے ہیں، اصل مکروہ وقت یہی ہے جس کو وقتِ استواء کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد زوالِ شمس کا وقت شروع ہوجاتا ہے جو کہ ظہر کی نماز کا ابتدائی وقت ہے۔ تاہم اس وقت کا مشاہدہ سے اندازا  لگانا عام طور پر مشکل ہے، اسی وجہ سے اس سے کچھ دیر پہلے اور اس سے کچھ دیر بعد تک احتیاط کرنے کا کہا جاتا ہے، احتیاطاً  کل دس منٹ تک نماز نہ پڑھی جائے۔

رات میں زوال کا وقت نہیں ہوتا۔ بعض عوام میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ دن کی طرح رات میں بھی زوال ہوتاہے، اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ رات بارہ بجے نماز پڑھنا منع ہے، حال آں کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ لہٰذا پوری رات میں کسی بھی وقت نفل یا قضا نماز پڑھنا بلاکراہت جائز ہے۔ البتہ عشاء کی نماز  بلاعذر آدھی رات سے زیادہ تاخیر کرکے ادا کرنا مکروہ ہے، تاہم اس صورت میں بھی عشاء کی نماز ادا ہوجاتی ہے، اور اگر کسی عذر کی وجہ سے عشاء کی نماز میں تاخیر ہوجائے تو آدھی رات کے بعد بھی بلاکراہت اسے ادا کرنا جائز ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 371):
"ولايخفى أن زوال الشمس إنما هو عقيب انتصاف النهار بلا فصل".

آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے :

’’اوقات کے نقشوں میں جو زوال کا وقت  لکھا ہوتا ہے، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے بعد نماز جائز ہے، زوال میں تو زیادہ منٹ نہیں لگتے، لیکن احتیاطاً نصف النہار سے ۵ منٹ قبل اور ۵ منٹ بعد نماز میں توقف کرنا چاہیے‘‘۔ (ج۳ / ص۲۰۷) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109203040

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں