بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ربیع الاول 1442ھ- 30 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

زوال کا وقت اور اس میں نماز کا حکم


سوال

زوال کے وقت کے بارے میں تفصیل سے بتا دیجیے کس وقت نماز پڑھنا منع ہے؟

جواب

 زوالِ آفتاب کا مطلب ہے سورج کا ڈھلنا، جس کو ہمارے عرف میں دوپہر ڈھلنا کہا جاتا ہے، پورا سورج  32 دقیقہ ہے اور اسے خط سے گزرنے میں 2 منٹ اور 8 سیکنڈ لگتے ہیں، اصل مکروہ وقت  یہی ہے جس کو ’’وقتِ استواء‘‘  کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد زوالِ شمس کا وقت شروع ہوجاتا ہے جو کہ ظہر کی نماز کا ابتدائی وقت ہے۔ تاہم اس وقت کا مشاہدہ سے اندازا  لگانا عام طور پر مشکل ہے،  اس لیے احتیاطاً  جنتریوں میں موجود وقتِ استواء سے پانچ منٹ پہلے اور پانچ منٹ بعد تک کوئی سی نماز  پڑھنا جائز نہیں ہوتی، وقتِ استواء کے بعد  پانچ منٹ گزرتے ہی ظہر کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔ ان اوقات میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔

آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے :

’’اوقات کے نقشوں میں جو زوال کا وقت  لکھا ہوتا ہے، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے بعد نماز جائز ہے، زوال میں تو زیادہ منٹ نہیں لگتے، لیکن احتیاطاً نصف النہار سے ۵ منٹ قبل اور ۵ منٹ بعد نماز میں توقف کرنا چاہیے‘‘۔ (ج۳ / ص۲۰۷) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108201782

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں