بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1444ھ 07 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

زرعی بینک سے قرض لینا


سوال

زرعی بینک سے قرض لینا شرعاً کیسا ہے؟ اگر کوئی وہ قرض سال میں واپس کرے تو ان سے سود نہیں لیا جاتا!

جواب

زرعی بینک سے قرض لینا جائز نہیں، اگرچہ قرض لیتے ہوئے یہ نیت ہو کہ سال میں واپس کردے گا، تاکہ اضافی رقم نہ دینی پڑے؛ کیوں کہ اس قرض کے معاہدے میں یہ شرط ہوتی ہے کہ اگر رقم سال میں واپس نہیں کی تو اضافی رقم دے گا، جس طرح سود کا لین دین حرام ہے اسی طرح سودی معاہدہ کرنا بھی ناجائز اور حرام ہے۔

"وقد روي عن عمر بن عبدالعزيز رضي الله عنه أنه أخذ قومًا يشربون الخمر، فقيل له عن أحد الحاضرين: إنه صائم، فحمل عليه الأدب وقرأ هذه الآية:{إِنَّكُمْ إِذاً مِثْلُهُمْ}،أي إن الرضا بالمعصية معصية؛ ولهذا يؤاخذ الفاعل والراضي بعقوبة المعاصي حتى يهلكوا بأجمعهم."

الجامع لأحكام القرآن (5/ 418)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109202370

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں