بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

زمین متعین پیدوار کے بدلے میں دینا


سوال

ضلع نارووال کے کچھ دیہاتوں میں یہ طریقہ کار چل رہا ہے کہ زمین والا ٹھیکے پر اپنی زمین دوسرے کو دے دیتا ہے اور دونوں میں باہمی رضامندی سے ٹھیکہ یہ طے ہو جاتا ہے کہ جس نے زمین ٹھیکہ پر لینی ہے اس نے زمین کے مالک کو 12 من مونجی دینی ہے اور یہ بھی کوئی پابندی نہیں کہ کسی خاص زمین میں سے دینی ہے جہاں سے مرضی وہ طے شدہ ٹھیکہ دیا جاسکتا ہے ازراہ کرم شریعت کی رو سے مذکورہ مسئلہ کی وضاحت مطلوب ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں زمین آباد کرنے کے لیے دے کر اپنے لیے متعین پیداوار طے کرلینا شرعاً جائز نہیں، یا تو اپنی زمین اجرت پر   دے دیں اور اجرت طے کرلیں، اس کے بعد وہ شخص  اس میں محنت کرے نہ کرے اجرت اس کے ذمہ لازم ہوگی، یا پیداوار میں فیصد کے اعتبار سے اپنا حصہ مقرر کریں، مثلاً جتنی پیداوار ہو اس کا تیس یا چالیس فیصد اپنے لیے اور باقی جس نے زمین لی ہے اس   کے لیے طے کرلیں، پھر جتنی بھی پیداوار ہو کم یا زیادہ اسی حساب سے تقسیم کرلی جائے۔

در مختار میں ہے :

"و ) بشرط ( الشركة في الخارج ) 

 ثم فرع على الأخير بقوله ( فتبطل إن شرط لأحدهما قفزان مسماة أو ما يخرج من موضع معين أو رفع)".

(276/6 ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144411102073

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں