بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

زمین کو مسجد بنانے کی شرائط کیا ہیں؟


سوال

 زمین کا مسجد بن جانے میں کیا کیا شرائط ہیں؟ کیا افراز اور اذن عام کافی ہے یا نماز پڑھنا بھی ضروری ہے؟

جواب

کسی جگہ کے مسجد  بننے کے بعد امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک اس جگہ کے مالک کا صرف اتنا کہنا کافی ہے کہ میں  نے یہ جگہ مسجد  بنا دی ، البتہ امام ابو حنیفہ و امام  محمد رحمہما اللہ کے نزدیک اس کے کہنے کے ساتھ کم از کم ایک نماز باجماعت پڑھنا بھی مسجد بننے کے لیے ضروری ہے، اس کے علاوہ مسجد ہونے کے لیے یہ بھی ضروری ہے وہ جگہ مشاع نہ ہو بلکہ اپنی ملکیت سے اس کو بالکل جدا کر دے اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک جدا راستہ کی شرط بھی ہے۔

لہذا  مسجد کے لیے جگہ وقف کرنے یا متولی کے مسجد کے لیے جگہ خریدنے سے وہ جگہ وقف ہوجائے گی، البتہ مسجدِ شرعی ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس جگہ پر باقاعدہ مسجد بنائی جائے یا اس جگہ میں باجماعت نماز شروع کی جائے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(ويزول ملكه عن المسجد والمصلى) بالفعل و (بقوله جعلته مسجدا) عند الثاني (وشرط محمد) والإمام (الصلاة فيه) بجماعة وقيل: يكفي واحد وجعله في الخانية ظاهر الرواية.

(قوله بالفعل) أي بالصلاة فيه ففي شرح الملتقى إنه يصير مسجدا بلا خلاف، ثم قال عند قول الملتقى، وعند أبي يوسف يزول بمجرد القول ولم يرد أنه لا يزول بدونه لما عرفت أنه يزول بالفعل أيضا بلا خلاف اهـ. مطلب في أحكام المسجد قلت: وفي الذخيرة وبالصلاة بجماعة يقع التسليم بلا خلاف، حتى إنه إذا بنى مسجدا وأذن للناس بالصلاة فيه جماعة فإنه يصير مسجدا اهـ ويصح أن يراد بالفعل الإفراز، ويكون بيانا للشرط المتفق عليه عند الكل كما قدمناه من أن المسجد لو كان مشاعا لا يصح إجماعا وعليه فقوله عند الثاني مرتبط بقول المتن بقوله: جعلته مسجدا وليست الواو فيه بمعنى أو فافهم، لكن عنده لا بد من إفرازه بطريقة ففي النهر عن القنية جعل وسط داره مسجدا وأذن للناس بالدخول والصلاة فيه إن شرط معه الطريق صار مسجدا في قولهم جميعا وإلا فلا عند أبي حنيفة، وقالا يصير مسجدا ويصير الطريق من حقه من غير شرط كما لو آجر أرضه ولم يشترط الطريق اهـ وفي القهستاني ولا بد من إفرازه أي تمييزه عن ملكه من جميع الوجوه فلو كان العلو مسجدا والسفل حوانيت أو بالعكس لا يزول ملكه لتعلق حق العبد به كما في الكافي."

(جلد۴، ص:۳۵۵ و ۳۵۶،ط: سعید )

وفيه أيضًا:

"وفي الذخيرة: وبالصلاة بجماعة يقع التسليم بلا خلاف، حتى إنه إذا بنى مسجدًا وأذن للناس بالصلاة فيه جماعةً فإنه يصير مسجدًا".

(ج: 4، ص: 356، ط: سعيد)

فتاوی دارالعلوم دیوبند  میں ہے :

"سوال: مسجدشرعی کس کوکہتے ہیں ؟

الجواب: مسجد شرعی وہ ہے کہ کوئی ایک شخص یاچنداشخاص اپنی مملوکہ زمین مسجد کےنام سے اپنی ملک سے جداکردیں ، اوراس کاراستہ شاہ راہ عام کی طرف کھول کر عام مسلمانوں کواس میں نماز پڑھنے کی اجازت دیدیں ،جب ایک مرتبہ اذان وجماعت کے ساتھ اس جگہ نماز پڑھ لی جاوے تویہ جگہ مسجد ہوجائے گی۔"

(فتاوی دارالعلوم دیوبند ،کتاب المساجد ،2 /635 ط:دارالاشاعت )

 فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144507100964

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں