بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شوال 1445ھ 21 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

15 تاریخ کے بعد یا2) محرم الحرام اور صفر المظفر میں زندگی خراب ہونے کاعقیدہ رکھنے کاحکم


سوال

ہمارے ہاں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ : 1) مرے ہوئے چاند یعنی چاند کی15 تاریخ کے بعد شادی کرنے سے ازدواجی زندگی میں ناچاقیاں ہوتی ہیں ، یہاں تک کہ طلاق بھی ہوجاتی ہے ، کیا اس طرح کہنا اور ماننا صحیح ہے ۔ 2) محرم الحرام اور صفر المظفر میں شادی کرنے سے ازدواجی زندگی خراب ہوتی ہے، اس لئے ربیع الاوّل سے ذی القعدہ تک ٹائمز دیا جاتا ہے ۔

جواب

1۔2۔ چاند کی15 تاریخ کے بعد اور محرم الحرام اور صفر المظفر میں شادی کرنے سے ازدواجی زندگی خراب ہونے کاتصورغلط ہے،یہ    جاہلوں کی بات ہے کہ وہ انسانوں  کی پریشانیوں اور مصیبتوں کوزمانے اور وقت کے سر ڈال دیتے ہیں، اور اپنی زبان سے اس طرح کے الفاظ نکالتے ہیں کہ زمانہ خراب ہے، بہت برا وقت ہے، حدیث شریف میں زمانہ اور وقت کو برا کہنے کی مذمت کی گئی ہے، کیوں کہ زمانہ کا خالق اللہ تعالیٰ ہے،لہذاصورتِ مسئولہ میں اس طرح  کاخیال اورعقیدہ رکھنا شرعاًدرست نہیں۔

 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"ابن آدم (انسان)   مجھے تکلیف دیتا ہے، (یعنی اس طرح کہ) وہ زمانہ کو برا کہتا ہے حال آں کہ زمانہ (کچھ نہیں وہ) میں ہی ہوں، سب تصرفات  میرے قبضہ میں ہیں ، اور شب وروز کی گردش میرے ہی حکم سے ہوتی ہے."

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ( «قال الله تعالى: يؤذيني ابن آدم، يسب الدهر وأنا الدهر بيدي الأمر، أقلب الليل والنهار» ) متفق عليه."

 (قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: قال الله تعالى: يؤذيني) بالهمز ويبدل، أي يقول في حقي (ابن آدم) ما أكره، وينسب إلي ما لا يليق بي، أو ما يتأذى به من يصح في حقه التأذي ... (وأنا الدهر) يروى برفع الراء، قيل: هو الصواب، وهو مضاف إليه أقيم مقام المضاف أي أنا خالق الدهر، أو مصرف الدهر، أو مقلبه، أو مدبر الأمور التي نسبوها إليه، فمن سبه بكونه فاعلها عاد سبه إلي؛ لأني أنا الفاعل لها، وإنما الدهر زمان جعل ظرفا لمواقع الأمور، وأتى بأداة الدهر مبالغة في الرد على من يسبه، وهم صنفان: دهرية لا يعرفون للدهر خالقا ويقولون: {وما يهلكنا إلا الدهر} [الجاثية: 24] أو معترفون بالله تعالى لكنهم ينزهونه عن نسبة المكاره إليه، فيقولون: تبا له، وبؤسا، وخيبة، ونحو ذلك. وقد يقع من بعض عوام المؤمنين جهالة وغفلة، ويروى بنصب الدهر على الظرفية أي أنا الفاعل أو المتصرف في الدهر، وقيل: الدهر الثاني غير الأول، فإنه بمعنى زمان مدة العالم من مبدأ التكوين إلى أن ينقرض، أو الزمن الطويل المشتمل على تعاقب الليالي والأيام، بل هو مصدر بمعنى الفاعل، ومعناه أنا الداهر المتصرف المدبر المفيض لما يحدث. وقال الراغب: الأظهر أن معناه أنا فاعل ما يضاف إلى الدهر من الخير والشر والمسرة والمساءة، فإذا سببتم الذي تعتقدون أنه فاعل ذلك فقد سببتموني،"

(كتاب الايمان، ج:1، ص:96، ط:دارالكتب العلمية)

معجم الفروق اللغویۃ میں ہے:

"الفرق بين الزمان و الوقت: أن الزمان أوقات متوالية مختلفة أو غير مختلفة."

فالوقت واحد و هو المقدر بالحركة الواحدة من حركات الفلك و هو يجري من الزمان مجرى الجزء من الجسم والشاهد أيضًا أنه يقال: زمان قصير وزمان طويل ولايقال: وقت قصير."

(الفرق بين الزمان والوقت، ص:268، ط:مؤسسة النشرالاسلامى)

فقط والله اعلم 


فتوی نمبر : 144501102081

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں