بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 12 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ذخیرہ اندوزی کا حکم


سوال

ذخیرہ اندوزی کرنا ، ملاوٹ کرنا ، ناپ تو ل میں کمی ، کسی خرید ار کو عیب والا مال بیچنا ، جھوٹی قسم کھا کر مال بیچنا یا عمدہ چیز بتا کر گھٹیا چیز بیچنا یا کبھی کسی چیز یا جمع کیے گئے مال کو جسے کم پیسوں میں خریدا ہوتا ہے لیکن مارکیٹ میں وہ چیز کم یا ب ہوجاتی ہے تو اس کو پھر نئی قیمت پر مہنگے دام بیچا جاتا ہے جیسے اکثر پیٹرول وغیرہ پر ہوتاہے کہ رات میں دام بڑھ جانے کی توقع پر پرانا اسٹاک لوگوں کو اس وقت تک اس دن نہیں دیا جاتا جب تک نئی قیمت کی لسٹ نہیں آجاتی ۔پرانی چیز کو نئی کے ساتھ ملاکر بیچ دینا ، ایکسپائر زائد المدت چیزوں کا لیبل ہٹا دیا جاتا ہے یا اس کو مٹا دیا جاتا ہے ان سب کا کیا حکم ہے؟خرید ار کتنے دن میں اگر اس کو چیز پسند نہ آئے تو واپس لٹاسکتا ہے؟ اور اگر لٹا سکتا ہے تو کیاپھر وہ ہرچیز کو لٹا سکتا ہے یا اس کی کوئی شرط ہے؟اور بیچنے والے کے لیے کیا اس چیز کا واپس لینا ضروری ہے؟ بعض اوقات نمازی سنت ایسی جگہ پڑھ رہے ہوتے ہیں کہ ان کے سامنے سے گزرے بغیر صف میں انسان شامل نہیں ہوسکتاتو ایسی صورت میں کیا کرنا چاہئے ؟اور اس میں گنا ہ کس شخص پر ہو گا؟

جواب

ایسی ذخیرہ اندوزی جس سے معاشرہ کے افراد تکلیف میں آجاتے ہیں ۔دام مصنوعی طور پر بڑھادئیے جاتے ہیں یا دام بڑھنے کی صور ت میں فی ان اشیاء کی فروخت بند کردی جاتی ہیں ۔حالانکہ لوگ طلب میں لگے ہوئے ہوتے ہیں جیسا کہ آجکل ، چینی ،آٹا، پیٹرول وغیرہ سے متعلق کہا جارہاہے، اسلام میں ایسی ذخیرہ اندوزی ناجائز ہے ،احادیث میں اس پر بہت سخت وعیدیں آئی ہیں چند وعیدات ملاحظہ ہوں۔ 1۔ حضرت معمرؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ذخیرہ کرنے والا خطا کار ہے ۔ 2۔حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ذخیرہ اندوزی کرنے والا ملعون ہے۔ 3۔حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص نے مسلمانوں کے خلاف غذائی اجناس کا ذخیرہ اندوزی کیا اللہ تعالیٰ اس پر ،غربت افلاس اور جذام کی بیماری مسلط کردینگے ۔دیکھئے مشکوٰۃ باب الاحتکار 4۔ ناپ تول میں کمی کرنا حرام ہے ، سورہ مطففین اسی کے متعلق نازل ہوئی ، حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم ،شرک کے ساتھ ناپ تول میں کمی کی وجہ سے ہلاک ہوئی۔ عیب بتائے بغیر عیب دار مال فروخت کرنا ،جھوٹی قسم کھا کر مال فروخت کرنا ،عمدہ چیز بتاکر گھٹیا دینا، پرانی اشیاء کو نئے کے ساتھ بتائے بغیر فروخت کرنا ، جن اشیا ء کی مدت ختم ہوچکی ہے، تاریخ ھٹا کر فروخت کرنا ،چونکہ یہ تمام امور دھوکہ اور فریب ہیں۔اور عیب کو چھپانا ہے تو جب تک یہ اشیاء خریدار کے پاس ہوں انہوں نے استعمال یا فروخت نہ کئے ہوں اور اس کو عیب کے بارے میں معلوم ہوجائے تو وہ بغیر کسی شرط کے واپس کرسکتاہے،فروخت کرنے والا لینے کا پابند ہے۔ اگر آگے صف مکمل نہیں ہوئی ہے تو صف کو مکمل کرنے کے لیے آگے سے گذر سکتا ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143101200286

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے