بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1444ھ 08 اگست 2022 ء

دارالافتاء

 

زخم پر سنی پلاسٹ لگانے وضو كا حكم اورمعذور كی نماز كا حكم


سوال

1- اگر ایک شخص کے انگوٹھے پر زخم سے خون نکل رہا ہو تو کیا وہ اس زخم پر سنی پلاسٹ لگاکر  اس لیے نماز  پڑھ  سکتا  ہے  کہ شاید سنی پلاسٹ لگانے سے خون رک جائے  مگر  معلوم نہیں کہ  سنی پلاسٹ سے خون رکے گا یا نہیں؟

2-  اگر خون مستقل نکل رہا ہو تو ایسا شخص کیا نماز کے آخر وقت تک انتظار  کرے گا اور  پھر نماز  پڑھے گا یا معذور سمجھ کر وضو کرکے نماز پڑھ لے؟

جواب

1:صورتِ مسئولہ میں اگر سنی پلاسٹ لگانے سے انگوٹھے کے زخم سےخون کی تری باہرتک نہیں آئی تو وضو نہیں ٹوٹے گا اس  وضو کے  ساتھ نماز پڑھ سکتاہے ۔اگرخون کی تری باہرتک آگئی تووضو ٹوٹ جائے گااس صورت  میں اس وضو کے ساتھ نمازنہیں ہوگی۔

فتاویٰ ہندیہ  میں ہے:

"ولو كانت جراحة فربطها فابتل ذلك الرباط إن نفذ البلل إلى الخارج نقض الوضوء وإلا فلا ولو كان الرباط ذا طاقين فنفذ البعض دون البعض ينتقض الوضوء. كذا في التتارخانية في نواقض الوضوء."

(الفتاوی الھندیۃ ، کتاب الطھارۃ 36/1، ط: دار الفکر)

2:صورت مسئولہ میں اگرزخم سے مسلسل خون نکل رہاہوتونمازکے آخری وقت تک انتظارکرناضروری ہے،پھراگرزخم   ایسا ہو کہ اس میں سے مسلسل خون بہتا رہتا ہو، اور کسی نماز کے مکمل وقت میں بالکل  بند ہی نہ ہو  کہ اس وقت میں وضو کرکے وقتی فرض نماز پاکی کے ساتھ ادا کی جاسکے تو  ایسی صورت میں وہ شخص  شرعی معذور شمار ہوگا،  اوراس کے  لیے حکم یہ ہوگا کہ   ہر نماز کے وقت کے اندر ایک بار وضو کر کے اس وقت کی فرض نماز  اور جتنی چاہے نمازیں پڑھ لے چاہے خون بہہ رہا ہو۔ نماز کا وقت ختم  ہوتے ہی اس کا وضو بھی ختم ہوجائے گا، دوسری نماز کے  لیے نیا وضو کرنا ضروری ہوگا۔ البتہ اگر وقت کے اندر اندر وضو توڑنے کا کوئی اور سبب پیش آگیا، مثلًا قضاءِ حاجت کرلی تو وضو ٹوٹ جائے گا۔  اور وہ اس وقت تک زخم سے خون بہنے کے مسئلے میں شرعی معذور سمجھاجائےگا جب تک کسی نماز کا مکمل وقت خون نکلے بغیر نہ گزر جائے، اگر کسی بھی نماز کا مکمل وقت زخم سے خون رسے بغیر گزر گیا تو وہ شرعی معذور نہیں رہےگا، پھر عام آدمی والا حکم ہوگا۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"(وينقضه) خروج منه كل خارج (نجس) بالفتح ويكسر (منه) أي من المتوضئ الحي معتادا أو لا، من السبيلين أو لا (إلى ما يطهر) بالبناء للمفعول: أي يلحقه حكم التطهير.ثم المراد بالخروج من السبيلين مجرد الظهور وفي غيرهما عين السيلان ولو بالقوة، لما قالوا: لو مسح الدم كلما خرج ولو تركه لسال نقض وإلا لا، كما لو سال في باطن عين أو جرح أو ذكر ولم يخرج."

(الدرالمختار مع رد المحتار، كتاب الطهارة 1 / 134 ط:سعید)

وفيه ايضا:

"(وصاحب عذر من به سلس) بول لايمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) بأن لايجد في جميع وقتها زمناً يتوضأ ويصلي فيه خالياً عن الحدث (ولو حكماً) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، وفي) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) ولو مرة (وفي) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لأنه الانقطاع الكامل. (وحكمه الوضوء) لا غسل ثوبه  ونحوه (لكل فرض) اللام للوقت كما في - {لدلوك الشمس} [الإسراء: 78]- (ثم يصلي) به (فيه فرضاً ونفلاً) فدخل الواجب بالأولى (فإذا خرج الوقت بطل) أي: ظهر حدثه السابق."

(الدرالمختار مع رد المحتار، كتاب الطهارة،فی احکام المعذور 1 / 305 ط:سعید)

فقط و اللہ اعلم


فتوی نمبر : 144312100438

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں