بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

زکاۃ سے بچنے کے لیے حیلہ کرنے کا حکم


سوال

سال پورا ہونے سے پہلے پہلے پیسے اس نیت سے خرچ کرنا کہ مجھ پر زکاۃ فرض نہ ہو، کیسا ہے؟ 

جواب

واضح رہے کہ مال اللہ تعالی ٰ کے طرف سے ایک نعمت ہے،اور ہر نعمت کا شکر ادا کرنا ضرری ہے،اور مال کے شکر یہ ہے کہ اس کے زکاۃ ادا کی جائے،دین اسلام میں زکاۃ ہر مالدار صاحبِ نصاب پر فرض ہے،زکوٰۃ کی معاشرتی حیثیت ایک مکمل اور جامع نظام کی ہے، اگر ہر صاحبِ نصاب زکوٰۃدینا شروع کر دے تو مسلمان معاشی طور پر خوشحال ہو سکتے ہیں،نیز زکاۃ مال کے صفائی اور برکت کا ذریعہ ہے،اسے بوجھ نہ سمجھا جائے ڈھائی فیصد زکاۃ کے ادائیگی باقی ساڑھے ستانوے فیصد مال میں بڑھوتری کا ذریعہ ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں صاحبِ نصاب شخص پر لازم ہے کہ  سال مکمل ہونے پر زکاۃ ادا کرے، صرف اس نیت سے رقم خرچ کرنا کہ زکاۃ کی فرضیت ساقط ہوجائے  درست نہیں، زکاۃ ادا نہ کرنے کے لیے حیلہ اختیار کرنا شرعاً مکروہ ہے،اور یہ ناشکری ہے،اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہے ،تبھی تو زکاۃ فرض ہے،اس لیے خوش دلی کے ساتھ زکاۃادا کرنے کا اہتمام کریں۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وإذا فعله حيلة لدفع الوجوب كأن استبدل نصاب السائمة بآخر أو أخرجه عن ملكه ثم أدخله فيه، قال أبو يوسف لا يكره؛ لأنه امتناع عن الوجوب لا إبطال حق الغير.وفي المحيط أنه الأصح.وقال محمد: يكره، واختاره الشيخ حميد الدين الضرير؛ لأن فيه إضرارا بالفقراء وإبطال حقهم مآلا، وكذا الخلاف في حيلة دفع الشفعة قبل وجوبها.وقيل الفتوى في الشفعة على قول أبي يوسف، وفي الزكاة على قول محمد، وهذا تفصيل حسن شرح درر البحار.قلت: وعلى هذا التفصيل مشى المصنف في كتاب الشفعة، وعزاه الشارح هناك إلى الجوهرة."

(‌‌‌‌كتاب الزكاة، باب زكاة الغنم، ج:2، ص:284، ط: سعید) 

بنایہ  شرح الہدایہ میں ہے:

"(‌الحيلة في إسقاط الزكاة) ش: فعند أبي يوسف - رحمه الله -: لا يكره، وعند محمد: تكره.وقيل: الفتوى على قول أبي يوسف في الشفعة، وعلى قول محمد في الزكاة، والله سبحانه وتعالى أعلم."

(‌‌كتاب الشفعة‌‌، باب ما يبطل به الشفعة، فصل الحيل في الشفعة، ج:11، ص:387، ط:  دار الكتب العلمية)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"محض زکوۃ سے بچنے کے لیے ایسا کرنا مکروہ تحریمی ہے"۔

  (کتاب الزکاۃ، وجوبِ زکاۃ کا بیان، ج:22،  ص:295، ط: ادارۃ الفاروق)

فتاوی بینات میں ہے :

’’اس پر قانون فقہ کی رو سے اگرچہ زکوۃ ادا کرنے کا فتوی نہیں ہوگا،  لیکن زکوۃ سے بچنے کی نیت سے اس طرح مستقل طور پر حیلہ اختیار کرنا اور مال کو مال پر، دولت کو دولت پر جمع کرتے رہنا غضبِ الہی کو دعوت دینا ہے، اپنے آپ کو اور مال کو گندا کرنا ہے، دنیا میں تو اس قسم کا حیلہ اختیار کرنے سے زکوۃ بچ جائے گی،  لیکن آخرت میں اس پر سخت مؤاخذہ ہوگا۔۔۔‘‘الخ

(ج:2، ص:689، ط: بینات)

فقط واللہ اَعلم


فتوی نمبر : 144507101512

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں