بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

زکات، صدقات اور فدیہ وغیرہ کی رقم تحفہ، ہدیہ یا گفٹ کے نام سے دینے کا حکم


سوال

فرض اور واجب صدقات و خیرات تحفہ اور گفٹ کا لفظ بول کر دینے سے ادا ہوجائیں گے یا نہیں ؟

جواب

کسی غریب کو زکات ، صدقہ یا فدیہ وغیرہ کی رقم دیتے ہوئے یہ بتانا لازم نہیں ہے کہ یہ زکات یا صدقہ یا فدیہ کی رقم ہے، بلکہ مستحقِ زکاۃ غریب کو زکات (مثلًا) کی رقم تحفہ، ہدیہ یا گفٹ کے نام سے دی جائے تو بھی زکات ادا ہوجائے گی، بشرطیکہ زکات ادا کرنے والے کے دل میں زکات  یا فدیہ  دینے کی نیت ہو۔

الفتاوى الهندية (1/ 171):

'' ومن أعطى مسكيناً دراهم وسماها هبةً أو قرضاً ونوى الزكاة فإنها تجزيه، وهو الأصح، هكذا في البحر الرائق ناقلاً عن المبتغى والقنية''۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144207200500

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں