بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

زکاۃ میں ہرہر مال پر سال گزرنا ضروری نہیں


سوال

میں ملازمت کرتا ہوں،  مجھے  ہر مہینے تنخواہ ملتی ہے تو  کیا میرے پچھلے 11 مہینوں کی جمع شدہ رقم پہ بھی زکاۃ واجب ہے؟ یا جس رقم پر سال پورا ہوا ہے صرف اس پہ زکاۃ واجب ہے؟

جواب

جب ایک آدمی صاحبِ نصاب ہو  اور سال پورا ہوجائے تو سال پورا ہونے پر جس قدر مالیت (ضرورت سے زائد نقد رقم، سونا، چاندی، مالِ تجارت) اس کی ملکیت میں ہوگی ان سب پر زکاۃ ادا کرنی ہوگی، ہر ہر مال پر سال گزرنا ضروری نہیں؛  لہذا اگر سائل پہلے سے صاحبِ نصاب ہے تو اس نے پچھلے گیارہ ماہ میں جو بچت کی ہے زکاۃ کی تاریخ آنے پر اس رقم کا بھی حساب کرکے زکاۃ نکالنا لازم ہوگا، اگر چہ اس جمع شدہ رقم پر سال نہ گزرا ہو۔

صاحبِ نصاب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اگر صرف سونا ہو تو ساڑھے سات تولہ،  یا چاندی ہو تو ساڑھے باون تولہ چاندی، یا ضرورت سے زائد اتنی رقم جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو، یا اتنا مالِ تجارت جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو، یا ان مذکورہ اموال میں سے کوئی دو یا زیادہ ہوں اور مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109200202

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے