بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

زکوۃ میں ملنے والی رقم سے حج یا عمرہ کرنے کا حکم


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل یل مسئلے کے بارے میں:

ایک خاتون زکوۃ کی مستحق ہے، زکوۃ دینے والا شخص زکوۃ کی رقم اس خاتون کے حوالے کرتاہے، تو کیا وہ خاتون اس رقم سے عمرہ یا حج ادا کر سکتی ہے رہنمائی فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب مذکورہ خاتون مستحقِّ  زکوۃ (یعنی مسلمان، غیرسید، غریب جو صاحبِ نصاب نہیں ہے) ہے تو اس کو زکوۃ دینا جائز ہے، اور زکوۃ کی رقم ملنے کے بعد وہ اپنے کسی بھی پسندیدہ مصرف مثلاً حج یا عمرے میں خرچ کرسکتی ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"أما تفسیرها فھي تملیك المال من فقیر مسلم غیر هاشمي ولامولاہ بشرط قطع المنفعة عن المملك من کل وجه لله تعالی هذا في الشرع."

(کتاب الزکوۃ، الباب الاول فی تفسیرالزکوۃ،ج:1 ص:170،ط:مکتبه حقانیه)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506102743

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں