بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شعبان 1441ھ- 02 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

زکوٰۃ کے وجوب کے لئے چاندی کو معیار قرار دینے کی علت


سوال

کیا زکوت 52٫50 تولا چاندی یا اس کے برابر رقم پر دی جائے گی یا 7٫50 تولا سونا یا اس کے برابر رقم پر دی جائے گی؟جناب عالی یہ میں اس لیئے پوچھ رہا ہوں کہ آج کے دور میں چاندی اور سونے کے ریٹ میں بہت فرق آچکا ہے، سونا لگ بھگ 55000 اور چاندی تقریبا 1200 فی تولا ہے۔مہربانی فرما کر تھوڑا تفصیلی جواب دیںادنیٰ طالب لئیق الرحمٰن

جواب

واضح رہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے قاعدہ یہ ہیکہ اگر کسی کے پاس صرف سوناہو تو سونے کا نصاب ہی معتبر ہوگا، اور اگر صرف چاندی ہو تو چاندی کا نصاب معتبر ہوگا، اوراگر سونا چاندی دونوں مشترک ہو ں یاسامانِ تجارت ہوتو اس صورت میں 52.50 تولہ چاندی کی قیمت معتبر ہوگی ۔ اس لئے کہ زکوٰ ۃ کے وجوب میں معیار اس چیز کو بنایا جائے گا جس میں فقراء ومساکین کا زیادہ فائدہ ہو اور ظاہر ہیکہ اس وقت فقراء کا فائدہ چاندی کو معیار بنانے میں ہے ۔ اگر سوناکو معیار قرار دیاجاتاتو اس میں فقراء کا نقصان ہوتا، اس لئے کہ اس صورت میں زکوٰۃ بہت کم لوگوں پر واجب ہوتی ۔واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143407200009

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے