بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

زکات کی ادائیگی میں قیمتِ خرید کا اعتبارہوگا یاقیمتِ فروخت کا؟ سامان کی حتمی قیمت طے نہ ہونے کی صورت میں زکات اداکرنےکا طریقہ


سوال

1۔ سوال یہ ہے کہ ایک دکاندار اگر ایک چیز مثلاً 500 روپے میں  خریدے اور اسے  دکان میں لے آئے اور اس کی  نیت یہ ہوکہ یہ چیز میں 550 روپے میں فروخت کروں گا تو جب تک وہ چیز فروخت نہ ہوئی ہو تو اس پر زکات  کس  قیمت کے اعتبار سے لازم ہوگی، قیمتِ خریدیا قیمتِ فروخت ؟

2۔ دوسراسوال یہ ہے کہ  ایک دکاندار  کے پاس  مال دکان میں  موجود ہے، لیکن  حتمی طورپر اس کی قیمت  طے نہیں ہے، مشتری کی مزاحمت یاعدمِ مزاحمت   کے نتیجے میں  قیمت کم یا زیادہ ہوسکتی ہے ، اس کے متعلق سوال یہ ہے کہ  اس مال کے فروخت ہونے سے پہلے  اس مال پر زکات  کس اعتبار سے لازم ہوگی؟

جواب

1۔ صورتِ مسئولہ میں  مذکورہ  دکاندار شخص   سامان خریدنے کے بعد  جس قیمت پر اسے فروخت کرنے کاارادہ رکھتاہے  سال  مکمل ہونے پر  اس مال کی اسی قیمتِ فروخت  کا حساب کرکے اپنے مال کی زکات اداکرنا شرعاً اس پر لازم  ہے۔

2۔ زکات کی ادئیگی میں  قیمت  ِ فروخت طے نہ ہونے کی صورت میں   اس کی موجودہ بازاری قیمت فروخت  لگائی جائے گی کہ  شہر میں یہ مال کتنے میں فروخت  ہوتاہے ،اس اعتبار سے اس مال کی  کل مالیت کا ڈھائی فی صد بطورِ زکاۃ ادا کردیاجائے،اگرچہ بعد میں کسی کو مہنگا اور کسی کو سستا فروخت کیا جائے ، محض اندازے   سے اس کی قیمت طے کرنا  کافی نہیں ہے، لیکن اگر  شہر میں اس مال کی مختلف قیمتیں  رائج ہو تو اس صورت میں  شہر کی اکثر مقامات میں   جس قیمت پر  یہ مال  فروخت ہوتاہواسی کا محتاط اندازہ لگاکر  اس مال کی زکات اداکی جائے گی۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وتعتبر القيمة يوم الوجوب، و قالا : يوم الأداء، و في السوائم يوم الأداء إجماعاً، وهو الأصح، ويقوم في البلد الذي المال فيه" ...الخ

(كتاب الزكاة، ج:2، ص: 286، ط: سعيد)

الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے:

"وقد أنكر الحنفية الخرص؛ ‌لأنه ‌رجم ‌بالغيب، وظن وتخمين لا يلزم به حكم."

(ج:3، ص؛ 1910، ط: دارالفکر بیروت)

فتاویٰ محمودیہ  میں ہے:

"عنوان:مالِ تجارت میں کس قیمت پر زکوۃ ہوگی؟

سوال:کتابوں کی بکری پر کمیشن وغیرہ نکال کر ہمیں بیس پچیس روپے فی سیکڑا بچ جاتا ہے،تو کتابوں کے اسٹاک میں اس لاگت پر زکوۃ واجب ہوگی جو ہمارا خرچ ان پر ہوا ہے،یا جس قیمت پر ہم کتابوں کو فروخت کرتے ہیں؟

جواب:بوقتِ ادائے زکوۃ یعنی سال بھر پوار ہونے پر جس قدر کی مالیت موجود ہو اس قدر پر زکوۃ واجب ہوگی۔"

(کتاب الزکاۃ،باب زکاۃ العروض،415/9،ط:فاروقیہ کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144508100579

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں