بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 محرم 1446ھ 23 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

زکوۃ کل سونے پر لازم ہے


سوال

ساڑھے سات تولہ کے بعد زکوة شروع هو گی یعنی میرے پاس دس تولہ ہے تو زکات ڈھائی تولہ پر لگے گی یا دس پر؟ 

جواب

واضح رہے کہ سونے کا نصاب ساڑھے سات تولہ ہے یعنی اگر کسی کے پاس صرف سونا ہو (چاندی، نقدی یا مالِ تجارت نہیں ہے) اور اس کی مقدار ساڑھے سات تولہ سونے سے کم ہو تو زکاۃ لازم نہیں ہوگی اور اگر ساڑھے سات تولہ یا اس سے زیادہ ہو تو اس کے اوپر زکاۃ کی ادائیگی لازم ہو گی، اور جب کسی کے پاس ساڑھے سات تولہ یا اس سے زیادہ سونا موجود ہو تو مجموعی مقدار پر زکاۃ لازم ہو گی، ایسا نہیں ہے کہ جو مقدار نصاب سے زائد ہو اس پر زکاۃ لازم ہو۔  یہی حکم تمام نصابوں کا ہے کہ جب نصاب سے زائد مقدار ہوجائے تو مجموعی مال پر زکاۃ واجب ہوتی ہے۔

لہذا صورتِِ مسئولہ میں اگر آپ کے پاس دس تولہ سونا ہے تو آپ کے اوپر پورے دس تولہ سونے کی زکاۃ واجب ہو گی۔

یہ بھی ملحوظ رہے کہ اگر کسی کے پاس سونے کے ساتھ کوئی اور قابلِ زکات مال بھی ہو، مثلًا بنیادی ضرورت سے زائد نقدی یا چاندی  یا مالِ تجارت ہو تو پھر زکات کا نصاب ساڑھے سات تولہ سونا نہیں ہوتا، بلکہ سونا اور اس کے ساتھ دیگر اموال (نقدی، چاندی،  مالِ تجارت)  میں سے جو بھی ہو، اس کا مجموعہ  (قرض اور واجب الادا اخراجات منہا کرنے کے بعد) اگر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو  تو آدمی صاحبِ نصاب ہوجاتاہے، اور سال پورا ہونے پر اس کے ذمے مجموعی مالیت  کا  ڈھائی فیصد  (قرض اور واجب الادا اخراجات منہا کرنے کے بعد) بطورِ زکات نکالنا واجب ہوتاہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209201496

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں