بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

زکوۃ کو ایک سال کے بعد ادا کرنے کا حکم


سوال

زکوۃ کو ایک سال کے بعد ادا کرنے کا حکم   کس صحابی کوپہلی مرتبہ دیا گیا؟

جواب

زکات ایک سال کے بعد پہلی مرتبہ کس صحابی کو ادا کرنے کا حکم دیا گیا؟ اس سوال کی وضاحت کردیتے تو زیادہ مناسب ہوتا، تاہم بادی النظر میں جو مفہوم ہے   اس کی صراحت  کسی مستند کتاب میں نہیں مل سکی۔نیز یہ بھی ملحوظ رہے کہ جن سولات  سے ہمارے دین و دنیا کا فائدہ  متعلق نہ ہو اُن  سوالات سے احتراز کرنا چاہیے، یہاں صرف پیش آمدہ شرعی مسائل کے حل کے لیے رجوع کیجیے۔

زکات کی ادائیگی کے حوالے سے شرعی حکم یہ ہے کہ زکات سال بہ سال ادا کردینی چاہیے، البتہ آئندہ سال پورا ہونے سے پہلے پہلے زکاۃ ادا کرنے کی گنجائش ہے، تاہم اگر اگلا سال بھی مکمل ہوگیا اور اب تک پچھلے سال کی زکات ادا نہیں کی تو گناہ ہوگا، گو اس کے بعد بھی ادا کرنے سے زکات ادا ہوجائے گی۔ 

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2 / 3):

"وقال عامة مشايخنا: إنها على سبيل التراخي ومعنى التراخي عندهم أنها تجب مطلقًا عن الوقت غير عين ففي أي وقت أدى يكون مؤديا للواجب ويتعين ذلك الوقت للوجوب وإذا لم يؤد إلى آخر عمره يتضيق عليه الوجوب بأن بقي من الوقت قدر ما يمكنه الأداء فيه وغلب على ظنه أنه لو لم يؤد فيه يموت فيفوت فعند ذلك يتضيق عليه الوجوب حتى أنه لو لم يؤد فيه حتى مات يأثم وأصل المسألة أن الأمر المطلق عن الوقت هل يقتضي وجوب الفعل على الفور أم على التراخي كالأمر بقضاء صوم رمضان والأمر بالكفارات، والنذور المطلقة، وسجدة التلاوة ونحوها فهو على الاختلاف الذي ذكرنا وقال إمام الهدى الشيخ أبو منصور الماتريدي السمرقندي: " إنه يجب تحصيل الفعل على الفور " وهو الفعل في أول أوقات الإمكان ولكن عملا لا اعتقادا على طريق التعيين بل مع الاعتقاد المبهم أن ما أراد الله به من الفور والتراخي فهو حق وهذه من مسائل أصول الفقه."

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 272):

"(قوله: فيأثم بتأخيرها إلخ) ظاهره الإثم بالتأخير ولو قل كيوم أو يومين لأنهم فسروا الفور بأول أوقات الإمكان. وقد يقال: المراد أن لايؤخر إلى العام القابل لما في البدائع عن المنتقى بالنون إذا لم يؤد حتى مضى حولان فقد أساء وأثم اهـ فتأمل."

الفتاوى الهندية (5/ 14):

"وتجب على الفور عند تمام الحول حتى يأثم بتأخيره من غير عذر ، وفي رواية الرازي على التراخي حتى يأثم عند الموت ، والأول أصح كذا في التهذيب."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144208200084

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں