بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

زکات کیا کہہ کر دینی چاہیے؟


سوال

کیا جس شخص کو زکات دی جارہی ہو،اس کو یہ بتانا ضروری ہے کہ یہ زکات کے پیسے ہیں؟

جواب

کسی مستحقِ زکات شخص  کو زکات کی رقم دیتے  وقت کچھ بتانا ضروری نہیں ہے،بلکہ زکات کی رقم ہدیہ، تحفہ یا کسی بھی عنوان سے دینے سے زکات ادا ہوجائے گی،بس دل میں زکات کی ادائیگی کی نیت کرناضروری ہے یا زکات کی رقم الگ کرتے ہوۓ زکات کی نیت کرلی جاۓ،البتہ  اگر زکات کسی کو وکیل بنا کر دی جاۓ یا کسی ادارے  وغیرہ میں   دی جاۓ تو  زکات  دیتے وقت بتادینا چاہیے کہ یہ زکات کی رقم ہے، تاکہ منتظمین اسے زکات کے مصارف میں ہی صرف کریں۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ومن ‌أعطى ‌مسكينا ‌دراهم وسماها هبة أو قرضا ونوى الزكاة فإنها تجزيه، وهو الأصح هكذا في البحر الرائق ناقلا عن المبتغى والقنية."

(كتاب الزكاة، الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها، ج:1، ص:171، ط:رشيدية)

تبیین الحقائق میں ہے:

"قال - رحمه الله -: (وشرط أدائها نية مقارنة للأداء أو لعزل ما وجب أو تصدق بكله) أي‌‌ شرط صحة أداء الزكاة نية مقارنة للأداء أو لعزل مقدار الواجب أو تصدق بجميع النصاب؛ لأنها عبادة فلا تصح بدون النية، والأصل فيه الإقتران بالأداء كسائر العبادات إلا أن الدفع يتفرق فيحرج باستحضار النية عند كل دفع فاكتفي بوجودها حالة العزل دفعا للحرج."

(کتاب الزکاۃ، شرط صحة أداء الزکوۃ، ج:1، ص:257، ط:دار الكتاب الإسلامي)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144507100922

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں