بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

زکاۃ کی رقم سے اسکول کی فیس اور کورس دینا


سوال

زکوٰۃ  کے مستحقین کو زکوٰۃ دیتے ہوئے بتانا ضروری ہے کہ یہ زکوٰۃ ہے؟ اگر میں مستحقِ زکوٰۃ لوگوں   کے  بچوں کی اسکول فیس ادا کر دوں یا ان کے بچوں کے اسکول کی کتابیں، کاپیاں لے کر دے دی جائیں تو ایسی صورت میں زکوٰۃ کی ادائیگی ہو جائے گی؟ یا بہتر ہے کہ پیسے زکوٰۃ مستحقین کو دیے جائیں اور وہ ان کو جیسے چاہیں استعمال کریں؟ 

جواب

کسی مستحقِ  زکات شخص کو  زکات کی رقم دیتے ہوئے یہ بتانا ضروری نہیں ہے کہ یہ  زکات کی رقم ہے، بلکہ مستحقِ زکات کو زکات کی رقم ہدیہ، تحفہ، قرض یا کسی بھی عنوان سے دینے سے زکات ادا ہوجائے گی، تاہم زکات ادا کرنے والے کے دل میں زکات دینے کی نیت ہونا ضروری ہے۔

جن بچوں کے والدین اسکول کی ماہانہ فیس ادا نہیں کرپاتے، یا کتابیں نہیں خرید پاتے اگر وہ زکات کے مستحق ہوں تو انہیں زکات اور صدقاتِ واجبہ کی رقم دینا جائز ہوگا جسے وصول کرنے کے بعد وہ اپنے بچوں کی اسکول فیس ادا کردیں اور کتابیں خرید لیں، یا جیسے چاہیں اس کو استعمال کریں، اور زکات دینے والوں کی زکات ادا ہوجائے گی۔اسی طرح اگر زکات کی رقم سے کتابیں اور اسٹیشنری وغیرہ خرید کر انہیں مالک بنادیا جائے تو بھی زکات ادا ہوجائے گی۔ 

البتہ براہِ راست اسکول والوں کو یہ زکات کی رقم اس بچے کی  فیس کی مد میں دینا درست نہیں، کیوں کہ اس میں مستحق کو تملیک (مالک بنانا) نہیں پایا جاتا؛ جو کہ زکات میں شرط ہے۔ہاں یہ صورت اختیار کی جاسکتی ہے کہ   مستحق شخص زکات  وصول کرنے اور اس سے فیس ادا کرنے کے  لیے کسی کو اپنا وکیل نامزد کردےاور وکیل زکات  وصول کرکے مستحق شخص کی طرف سے فیس ادا کردے۔

عالمگیری میں ہے:

"ومن أعطى مسكيناً دراهم وسماها هبةً أو قرضاً ونوى الزكاة فإنها تجزيه، وهو الأصح، هكذا في البحر الرائق ناقلاً عن المبتغى والقنية".

(الفتاوى الهندية (1/ 171)، [الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها]،(كتاب الزكاة)، الناشر: دار الفكر)

بدائع میں ہے:

"وأما ركن الزكاة فركن الزكاة هو إخراج جزء من النصاب إلى الله تعالى، وتسليم ذلك إليه يقطع المالك يده عنه بتمليكه من الفقير وتسليمه إليه أو إلى يد من هو نائب عنه، وكذا لو دفع زكاة ماله إلى صبي فقير أو مجنون فقير وقبض له وليه أبوه أو جده أو وصيهما جاز؛ لأن الولي يملك قبض الصدقة عنه."

(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2 / 39)، کتاب الزکاۃ، فصل: رکن الزکاۃ، ط: دار الکتب العلمیۃ)

ہندیہ میں ہے:

"وَذَكَرَ فِي الْفَتَاوَى أَنَّ أَدَاءَ الْقِيمَةِ أَفْضَلُ مِنْ عَيْنِ الْمَنْصُوصِ عَلَيْهِ وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى، كَذَا فِي الْجَوْهَرَةِ النَّيِّرَةِ."

(الفتاوى الهندية، كتاب الزكاة، وفيه ثمانية أبواب، الباب الثامن في صدقة الفطر-صفحة - 192، ج1، ط: دار الفکر)

فقط والله  اعلم


فتوی نمبر : 144211200043

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں