بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 ذو الحجة 1443ھ 07 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

زکوٰۃ کی رقم سے مدرسہ کےلیے جگہ خرید کر اسے وقف کرنے کا طریقہ


سوال

ہمارا ایک بنات کا مدرسہ ہے، جس میں دورہ حدیث تک تعلیم دی جاتی ہے اور وفاق المدارس سے منسلک ہے، یہ مدرسہ کرایہ کی جگہ پر ہے، ماہانہ کرایہ اچھا خاصا دینا پڑتا ہے، اب ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس جگہ کو خرید کر مدرسہ کے لیے وقف کردیا جائے، لیکن مشکل یہ ہے کہ اس کی قیمت بہت زیادہ ہے، اس کی استطاعت نہیں ، البتہ بعض دوست زکوٰۃ دینے کے لیے تیار ہیں،اس صورت میں اس جگہ کو خرید کر اس کو وقف کرنا آسان ہوجائےگا۔

آپ حضرات سے گزارش ہے کہ اس کے لیے کوئی ممکن صورت ہو تو راہ نمائی فرمادیجیے۔

جواب

واضح رہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ زکوٰۃ کی رقم مستحقِ زکوٰۃ شخص کو مالک بناکر  دی جائے، اورزمین خرید کر اسے مدرسہ کےلیے وقف کرنے سے چوں کہ کسی مستحق شخص کو مالک بنانا نہیں پایا جاتاتو ایسی صورت میں زکوٰۃ دینے والے شخص کی زکوٰۃ ادا نہ ہوگی۔ 

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کو چاہیے کہ وہ اپنے مدرسہ کے لیےزکوٰۃ کے علاوہ کی مد کا انتظام کرے،اور حتی الامکان کسی بھی قسم کے حیلہ سے بچنے کی کوشش کرے، تاہم اگر کوئی انتظام نہ ہو سکے اورعلاقےکے لوگ بھی غریب ہیں، اور صرف زکوٰۃ کی رقم ہی مل رہی ہو اور جگہ کی شدید ضرورت بھی ہو تو اس صورت میں مدرسہ کے لیے زمین خریدنے کی صورت  یہ ہے کہ کسی غریب آدمی سے کہا جائے کہ کسی سے قرض لےکر زمین خریدکر مدرسہ کے لیے وقف کردے اور ہم آپ کا قرض اتارنے کا انتظام کریں گے، پھر اگر غریب آدمی کسی سے قرض لے کر زمین خرید کر مدرسہ کےلیے وقف کردے تو اس کو قرض  اتارنے کے لیے زکوٰۃ کی رقم دے دیں ، اس طرح زکوٰۃ بھی ادا ہوجائے گی اور مدرسہ کو زمین بھی مل جائےگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه)

و في الرد: (قوله: نحو مسجد) كبناء القناطر والسقايات وإصلاح الطرقات وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه زيلعي۔"

(کتاب الزکوٰۃ ، باب مصرف الزکوٰۃ والعشر،ج:2،ص:344،ط:سعید)

تبیین الحقائق میں ہے:

"قال - رحمه الله - (وبناء مسجد) أي لا يجوز أن يبنى بالزكاة المسجد لأن ‌التمليك ‌شرط فيها ولم يوجد وكذا لا يبنى بها القناطر والسقايات وإصلاح الطرقات وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه۔"

(کتاب الزکوٰۃ ، باب المصرف ،ج:1،ص:300،ط:دارالکتا ب الإسلامی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144308100936

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں