بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

زکاة کی رقم سے تنخواہ دینا


سوال

لاک ڈاؤن کی صورت میں زکاۃ کی مد میں سے ایسے ملازمین کی مدد کی جا سکتی ہے جو  زکاۃ کے مستحق نہ ہوں اور ان کو  زکاۃ کی مد میں سے تنخواہ دی جا سکتی ہے یا نہیں؟

جواب

زکاۃ کی مد سے تنخواہ دینا جائز نہیں، اور نہ ہی اس طرح تنخواہ دینے سے زکاۃ ادا ہوگی اگرچہ ملازم زکاۃ کا مستحق ہو۔

البتہ جو ملازمین زکاۃ کے مستحق ہوں انہیں اس صراحت کے ساتھ  زکاۃ دی جا سکتی ہے کہ تنخواہ بعد میں دی جائے گی، یہ تنخواہ کے علاوہ تعاون ہے۔  تنخواہ کے نام پر، یا مذکورہ بالا صراحت کے بغیر انہیں بھی زکاۃ دینے سے زکاۃ ادا نہ ہوگی۔

واضح رہے کہ زکاۃ دیتے وقت زکاۃ کی صراحت کرنا ضروری ہے، بلکہ تعاون یا ہدیہ وغیرہ کہہ کر بھی دی جاسکتی ہے، البتہ زکاۃ دینے والے کے دل میں زکاۃ کی نیت ہونا ضروری ہے۔  نیز یہ بھی یاد رہے کہ جو ملازمین زکاۃ کے مستحق نہیں ہیں انہیں زکاۃ کی مد سے تعاون یا ہدیہ کے نام سے دینا بھی جائز نہیں ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109201741

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے