بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ذو القعدة 1445ھ 21 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

زکوٰۃ کی رقم سے مدرسہ کی تنخواہیں دینا جائز نہیں


سوال

 میرے والد صاحب اور چاچو جان کا مشترکہ کاروبار ہے ہم ان کے ماتحت کام کرتے ہیں اور میرے چاچو جان نے ایک مقامی مدرسہ بنات کا بنایا ہوا ہے، میرے چاچو استانیوں کو تنخواہ دینے کیلیےمدرسے میں جو لوگ رقم دیتے ہیں وہ اور چاچو اپنے مال کی زکوٰۃ کی رقم مجھے دیتے ہیں اور پھر میں وہ رقم استانیوں کو تنخواہ میں دے دیتا ہوں ۔ اس بارے میں رہنمائی فرمائیں!

جواب

واضح رہے کہ زکوٰۃ ادا ہونے کے لیے ضروری ہے کہ کسی مستحق کو بلا معاوضہ اللہ پاک کی رضا کے لیے  زکوٰۃ کی رقم کا مالک بنایا جائے، مدرسہ کی تنخواہ چوں کہ استاد یا استانی کی خدمات کے معاوضہ کے طور پر ادا کی جاتی ہے  لہذا تنخواہ میں زکوٰۃ کی رقم استعمال کرنا جائز نہیں ہے اس سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔

صورتِ مسئولہ میں اگر لوگ مدرسہ میں زکوٰۃ کی مد میں رقم دیتے ہیں اور آپ کے چچا وہ رقم خود اپنی زکوٰۃ کی رقم کے ساتھ ملا کر آپ کو اس لیے دیتے ہیں کہ وہ آپ مدرسہ کی استانیوں کو دے دیں تو اس طرح زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی، کیوں کہ زکوٰۃ کی رقم کو مدرسہ وغیرہ کی تنخواہ میں صرف کرنا جائز نہیں ہے۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى -".

(كتاب الزكاة، الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها، 1/ 170، ط: رشيدية)

تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:

"ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه)."

(حاشية ابن عابدين ، كتاب الزكاة، باب مصرف الزكاة والعشر، 2/ 344، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509100558

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں