بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 جنوری 2021 ء

دارالافتاء

 

زکاة کی رقم سے کورونا سے بچاؤ کا لباس خرید کر ڈاکٹرز کو دینا


سوال

میں نے زکاۃ جمع کی اور اس رقم سے اسپتال کے ڈاکٹر حضرات  کےلیے کرونا کے حفاظتی لباس خرید کے دے دیے تو  کیا یہ درست ہے؟ 

جواب

واضح رہے کہ زکاة کی ادائیگی کے لیے مستحقِ زکاة شخص کو بغیر عوض مالِ زکات کا مالک بنانا شرعاً ضروری ہوتا ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل نے لوگوں سے زکاۃ کی رقم کرونا سے بچاؤ کے لباس خرید کر مستحقین میں تقسیم کرنے کے نام پر لی ہو اور اس نے مستحقِ زکاۃ ہسپتال کے عملہ کو مالکانہ حقوق کے ساتھ دی ہو تو زکاۃ ادا ہوجائے گی، البتہ غیر مستحق ڈاکٹرز کو کٹ فراہم کی ہو، یا مستحق عملہ کو تو دی ہو مگر مالکانہ حقوق کے ساتھ نہ دی ہو، بلکہ ہسپتال کے لیے بطورِ وقف دی ہو، تو ان دونوں صورتوں میں زکاة ادا نہ ہوگی، سائل ضامن ہوگا۔

البتہ اگر سائل نے لوگوں سے زکاۃ کی رقم زکاۃ کے کسی اور مصرف میں خرچ کرنے کے لیے لی ہو، یا اس نے مستحقِ زکاة کو  اس رقم کا مالک بنائے بغیر زکاة  کی رقم سے کورونا سے بچاؤ کا لباس خرید کر ڈاکٹرز کو فراہم کیا ہو تو اس صورت میں بھی   زکاة ادا نہ ہوئی، جس کی ادائیگی اب سائل کے ذمہ لازم ہے، پس جتنی رقم سائل  نے جمع کی تھی وہ اس رقم کا ضامن ہوگا، البتہ ادائیگی سے پہلے سائل پر ان افراد سے اجازت لینا ضروری ہوگا، جنہوں نے وہ رقم سائل کو دی تھی،  اگر سائل نے ان افراد کو مطلع کیے بغیر  ادا کردی تو اس صورت میں ان کی طرف سے زکاة ادا نہ ہوگی، نیز اگر افراد یاد نہ ہوں تو جن افراد سے لینے کا غالب گمان ہو، ان سے دریافت کرکے انہیں مطلع کردیں۔

بصورتِ دیگر  ایسا نہ کیا تو جن افراد سے  زکاة کی مد میں رقم جمع کی گئی تھی ان کی زکاة واجب الاداء رہے گی، اور کل قیامت میں سائل  کی پکڑ ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109201441

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں