بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 محرم 1446ھ 23 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

زکاۃ کی رقم میں سے فیس اور تنخواہ ادا کرنا


سوال

۱۔ہمارے قریب ایک محلے میں لوگوں نے مل کر ایک مسجد بنوائی ہے اور محلے سے پیسے جمع کرکے تنحواہ دیتے ہیں میری خواہش ہے کہ میں اس کی تنحواہ دوں محلے کے لوگ بھی کمزور ہیں کیا میں اپنے زکوۃ کے پیسوں سے اسے تنحواہ دے سکتا ہوں۔

۲۔ میرے بہن بھائی گورنمنٹ سروس کرتے ہیں اپنے بچوں کی فیس آسانی سے نہیں دے پاتے کیا میں اپنی زکوۃ سے ان کی فیس دے سکتا ہوں؟

جواب

۱۔ زکاۃ کی مد سے تنخواہ دینا جائز نہیں، اور نہ ہی اس طرح تنخواہ دینے سے زکاۃ ادا ہوگی اگرچہ امام زکاۃ کا مستحق ہو۔

۲۔ زکات  کسی مسلمان مستحقِ زکات  شخص کو بغیر عوض کے مالک بناکردینے سے ادا ہوتی ہے، لہذا بچوں کی فیس میں  زکات  کی رقم دینے سے زکات ادا نہیں ہوگی، البتہ اگر  آپ کے بہن بھائی  مستحقِ زکات  ہوں یعنی ان کی ملکیت میں ان کی ضرورتِ  اصلیہ سے زائد   ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر  رقم نہیں ہے ، اور نہ ہی  اس  قدر ضرورت و استعمال سے زائد  سامان ہو کہ جس کی مالیت نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت) کے برابر بنتی ہے اور نہ  ہی  وہ سید  ، ہاشمی ہے تو ان کے لیے زکات  لینا جائز ہوگا،  ان کو مالک بناکر  زکات کی رقم دے دی جائے تو زکوۃ ادا ہوجائے گی اس کے بعد  وہ اس رقم کو بچوں کی فیس میں ادا کریں یا اپنی ضروریات میں استعمال کریں اور بچے اگر بالغ یا قریب البلوغ اور سمجھ دار ہوں اور ان کے پاس بھی  ضرورت و استعمال سے زائد اتنا مال یا سامان موجود نہیں ہے جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت تک پہنچے اور وہ سید/ ہاشمی نہیں ہیں تو زکات کی رقم ان بچوں کو مالک بناکر دے دی جائے، اس سے بھی زکات ادا ہوجائے گی، پھر وہ اپنی فیس میں خود ادا کردیں۔ 

فتاویٰ شامی میں ہے :

"ولو دفعها المعلم لخلیفته إن کان بحیث یعمل له لو لم یعطه صح، و إلا لا.

(قوله: وإلا لا )؛ لأن المدفوع یکون بمنزلة العوض".

(جلد۲، ص:۳۵۶، ط: دار الفکر بیروت)

فتاویٰ عالمگیری  میں ہے :

"فهي تملیك المال من فقیر مسلم ... بشرط قطع المنفعة عن المملك من کل وجه".

(جلد۱، ص: ۱۷۰، ط : دار الفکر)

فتاوی عالگیر ی میں ہے:

'' ومن أعطى مسكيناً دراهم وسماها هبةً أو قرضاً ونوى الزكاة فإنها تجزيه، وهو الأصح، هكذا في البحر الرائق ناقلاً عن المبتغى والقنية."

(جلد، ۱، ص:۱۷۱، ط: دار الفکر)

بدائع میں ہے:

"وأما ركن الزكاة فركن الزكاة هو إخراج جزء من النصاب إلى الله تعالى، وتسليم ذلك إليه يقطع المالك يده عنه بتمليكه من الفقير وتسليمه إليه أو إلى يد من هو نائب عنه، وكذا لو دفع زكاة ماله إلى صبي فقير أو مجنون فقير وقبض له وليه أبوه أو جده أو وصيهما جاز؛ لأن الولي يملك قبض الصدقة عنه."

 ( کتاب الزکاۃ، فصل: رکن الزکاۃ،،جلد۲،ص: ۳۹،  ط: دار الکتب العلمیۃ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144405101020

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں