بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

زکات کی رقم کھانا کھلانے والی ویلفیئر کے باکس میں ڈالنا


سوال

کیا میں اپنی زکات کی رقم کھانا کھلانے والی ویلفیئر جماعت کے باکس میں ڈال سکتا ہوں؟

جواب

واضح رہے کہ زکات ادا ہونے کے لیے ضروری ہے کہ کسی مسلمان فقیر (زکاۃ کے مستحق)  کو بغیر کسی عوض کے خالص اللہ کی رضا کے لیے مالک بناکر حوالہ کردی جائے، لہٰذا بصورتِ مسئولہ اگر مذکورہ ویلفیئر نے  جو باکس زکات کے  لیے خاص کیا ہوا ہے، وہ اس باکس میں  آنے والی رقم سے   کھانا (پکا ہوا یا راشن کی صورت میں)  صرف زکات کے مستحقین کو  ہی مالک بناکر دیتے ہیں   تو اس صورت میں اس باکس میں زکات کی رقم ڈالنا جائز ہوگا، لیکن اگر وہ اس بات کا خیال نہیں رکھتے،  بلکہ ہر مستحق وغیر مستحق کو کھانے کی اجازت ہے، یا وہ کھانا فقیر کو مالک بناکر نہیں دیتے، بلکہ دسترخوان لگاتے ہیں جس نے کھانا ہو وہیں بیٹھ کر کھالے،  جیساکہ عام طور پر ایسا ہی ہوتا ہے تو اس صورت میں پھر اس باکس میں زکات کی رقم ڈالنا جائز نہیں ہوگا۔  بہتر یہ ہے کہ اس طرح کے  ڈبوں میں   زکات  کی رقم  ڈالنے کی بجائے یا تو  خود مستحقِ زکات تک پہنچائی جائے یا جس ادارے پر اعتماد ہو کہ وہ مصارف کا لحاظ رکھ کر زکات صرف کرتاہے وہاں زکات دی جائے، اگر کھانا کھلانے والے عام ادارے کے ساتھ تعاون کرنا ہو تو  نفلی صدقے یا خیرات کی رقم ان کے باکس میں ڈالے جاسکتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 200054

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں