بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

کرایہ کی مد میں زکاۃ کی رقم خرچ کرنا


سوال

اگر کوئی شخص زکاۃ کی ادائیگی کے لیے راشن خرید کر بازار سے لائے اور اس راشن کے لانے میں جو کرایہ لگے وہ بھی زکاۃ سے ادا کرے تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب

راشن لانے کے لیے گاڑی کے کرایہ کی مد میں زکاۃ کی رقم خرچ کرنا جائز نہیں ہے،  اس قدر رقم کی زکاۃ ادا نہیں ہوگی۔

زکاۃ کی ادائیگی صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ کسی ایسے مسلمان فقیر کو مالک بناکر دی جائے جو ہاشمی (سید/عباسی) نہ ہو ۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108201527

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے