بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

زکوۃ کی نیت


سوال

پچاس ہزار زکوٰۃ ادا کرنی ہے اس رمضان، سوال یہ  ہے کہ دسمبر میں شادی تھی، تب ہم نے تیس ہزار ان کی بیٹی کی شادی پر دیا اور بیس ہزار انہوں نے ادھار لیا، مگر تب کوئی نیت نہیں کی تھی ،نہ زکوٰۃ کی نہ صدقے کی، اب ہم ان کے بیس ہزار بھی ادا کر کے پچاس ہزار کی زکوٰۃ ادا کر لیں کیا یہ ٹھیک ہو گا؟

جواب

صورت مسئولہ میں زکاۃ  کی ادائیگی کے لیے  رقم  دیتے وقت یا زکاۃ دینے کے لیے اپنے مال سے  رقم کو جدا کرکے رکھتے وقت زکاۃ کی نیت کرنا  شرعاً ضروری ہوتا ہے اور اگر کسی مستحق آد می کو  رقم دی گئی ،اور وہ رقم اب تک  اس کے قبضہ میں ہےخرچ نہیں کی ،کسی کو دی نہیں تو بھی زکاۃ کی نیت معتبر ہے ، لہذا اگر وہ واقعی مستحق ہیں ،  اور   مذکورہ رقم دیتے وقت زکوۃ کی نیت تھی یا بعد میں نیت کی اور اس وقت  تک وہ رقم اس غریب  آدمی کے قبضہ میں تھی پھر تو   زکاۃ کی نیت کر کے زکاۃ  میں شمار کرنا صحیح ہو گا اور اگر وہ رقم شادی میں خرچ کرچکے تو زکوۃ کی نیت معتبر نہیں ۔

فتاوى ہندية  میں ہے :

'' ومن أعطى مسكيناً دراهم وسماها هبةً أو قرضاً ونوى الزكاة فإنها تجزيه، وهو الأصح، هكذا في البحر الرائق ناقلاً عن المبتغى والقنية.''

(1/ 171،الباب الاول فی تفسیرالزکاۃ وصفتھا وشرائطھا،ط:دارالفکر )

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144508101018

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں