بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1443ھ 09 دسمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

زکات کی ادائیگی رمضان میں واجب ہوگی یا سال پورا ہونے پر؟ مالِ تجارت میں قیمتِ فروخت کا اعتبار ہوگا یا قیمتِ خرید کا؟


سوال

 1- میں نے ستمبر 2020 میں دوکان کھولی ہے، اب میں نے زکوٰۃ ستمبر میں دینی  ہے یا  رمضان المبارک کے مہینے میں ؟

2-  جو زکوٰۃ میں نے دینی  ہے وہ اس حساب سے دینا ہے جس پر میں نے مال خریدا ہے یا اس حساب سے دینی ہے جس پر میں مال بیچ رہا ہوں، حال آں کہ بیچنے کا فائنل ریٹ کنفرم نہیں ہے؛ کیوں کہ بعض اوقات گاہک بہت چھیڑ  چھاڑ کر کے سامان خریدتا ہے؟

جواب

1:                واضح رہے کہ زکات کی ادائیگی  فرض ہونے کے  لیے مال پر سال گزرنا شرط ہے،یعنی: جب آدمی کی ملکیت میں اتنا  قابلِ زکات  مال(سونا، چاندی، نقد، مال تجارت) آجائے جو  زکات کے نصاب  کے برابر ہو  اور  اس کے بعد  چاند کی تاریخوں کے حساب سے اس مال  پر  سال گزر جائے تو اس شخص پر زکات فرض ہوجاتی  ہے ۔  

لہذا صورتِ  مسئولہ میں اگر آپ   ستمبر  2020 ء (محرم الحرام 1442ھ یا صفر الخیر 1442ھ کے آغاز) میں  نصاب کے مالک بنے ہوتو  آپ پر   زکات کی ادائیگی ستمبر میں واجب ہوگی، اگر دکان ستمبر میں  کھولی ہے،  لیکن ستمبر  سے   پہلے بھی آپ   نصاب کے  مالک   تھے   تو   آپ جس تاریخ کو نصاب کے مالک بنے تھے، اس  (ستمبر سے پہلے  والی) تاریخ کے حساب سے زکات کی ادائیگی واجب ہوگی۔ البتہ اگر آپ سال پورے ہونے سے پہلے   رمضان میں زکات دینا  چاہیں تو  رمضان میں بھی دے سکتے  ہیں۔

ملحوظ رہےکہ زکات میں آپ  قمری سال  کا حساب  رکھیے، انگریزی سال کے حساب سے احتراز  کیجیے!

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"(و منها حولان الحول على المال) العبرة في الزكاة للحول القمري، كذا في القنية ... و يجوز تعجيل الزكاة بعد ملك النصاب، و لايجوز قبله، كذا في الخلاصة."

(الفتاوى الهندية، كتاب الزكاة، الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها (1/ 175، 176)،ط. رشيديه)

البحر الرائق میں ہے:

"و فيالقنية: العبرة في الزكاة للحول القمري."

(البحر الرائق، كتاب الزكاة (2/ 219)،ط.  دار الكتاب الإسلامي)

2:       بیچنے  کے ریٹ پر زکات واجب ہوگی،  اگر بھاؤ تاؤکی وجہ سے قیمتِ فروخت مختلف ہوتی ہو تو اس صورت میں  آپ  جس قیمت پر عمومًا   فروخت کرتے ہوں،  ( درمیانہ ریٹ)اس کا اعتبار ہوگا۔ 

بدائع الصنائع میں ہے:

"لأن الواجب الأصلي عندهما هو ربع عشر العين، وإنما له ولاية النقل إلى القيمة يوم الأداء، فيعتبر قيمتها يوم الأداء، والصحيح: أن هذا مذهب جميع أصحابنا؛ لأن المذهب عندهم أنه إذا هلك النصاب بعد الحول تسقط الزكاة سواء كان من السوائم أو من أموال التجارة."

(بدائع الصنائع: كتاب الزكاة، فصل صفة الواجب في أموال التجارة (2/ 22)،ط. دار الكتب العلمية، الطبعة: الثانية، 1406هـ - 1986م)

الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے: 

"يقوم التاجر العروض أو البضائع التجارية في آخر كل عام بحسب سعرها في وقت إخراج الزكاة، لا بحسب سعر شرائها، ويخرج الزكاة المطلوبة."

(الفقه الاسلامي وادلته: القسْمُ الثَّاني: النّظَريّات الفقهيّة، تقويم العروض ومقدار الواجب في هذه الزكاة و طريقة التقويم (3/ 1871)،ط.  دار الفكر - سوريَّة - دمشق، الطبعة: الرَّابعة)

فقط، واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144208201210

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں