بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 شوال 1445ھ 01 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

زکات کی ادائیگی میں کپڑے، برتن وغیرہ دینے کا حکم


سوال

اگر کوئی شخص زکات کی ادائیگی کپڑے یا برتن سے کرے تو زکات ادا ہوگی  یا نہیں؟

جواب

زکات  کی ادائیگی میں واجب الادا  زکات کی رقم کے بقدر کپڑے ، برتن یا دیگر ضرورت کی اشیاء فقراء کو دینا جائز ہے، البتہ زکات کی ادائیگی میں ان اشیاء کی موجودہ قیمتِ فروخت کا اعتبار ہوگا، لہٰذا ان اشیاء کی موجودہ قیمتِ فروخت معلوم کرلی جائے، جو قیمت لگے اتنی رقم   زکات کے  حساب میں شمار کرلی جائے۔ 

المحیط البرھانی فی الفقہ النعمانی لابن مازہ  میں ہے:

"وذكر محمد رحمه الله في «الرقيات» أنه يقوم في البلد الذي حال الحول على المتاع بما يتعارفه أهل ذلك البلد نقداً فيما بينهم، يعني غالب نقد ذلك البلد، ولا ننظر إلى موضع الشراء، ولا إلى موضع المالك وقت حولان الحول؛ لأن هذا مال وجب تقويمه، فيقوّم بغالب نقد البلد كما في ضمان المتلفات إلا أنه يعتبر نقد البلد الذي حال الحول فيه على المال؛ لأن الزكاة تصرف إلى فقراء البلدة التي فيها المال، فالتقويم بنقد ذلك البلد أنفع في حق الفقراء من حيث الرواج، فيجب اعتباره."

( كتاب الزكوة، الفصل الثالث في بيان مال الزكاة،  ٢ / ٢٤٦، ط: دار الكتب العلمية)

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144208201005

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں