بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو القعدة 1445ھ 29 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

زکات کی رقم سے ہال کا کرایہ ادا کرنے کا حکم


سوال

عبداللہ کی شادی تھی  ،ظاہر نے کہا کہ شادی کا ہال میں کرادوں گا اور اس نے زکات سے شادی کا ہال کروادیا ، کیا ایسی صورت میں ظاہر کی زکات ادا ہوگئی ؟ واضح رہے کہ عبداللہ مستحق زکات  بھی ہے اور اکثر ظاہر سےامداد بھی طلب کرتا رہتا ہے۔

جواب

واضح رہے کہ زکات کی ادائیگی کے لیے ضروری ہےکہ کسی فقیر غیر ہاشمی (سید)کو اس کا مالک بنایا جائے، اس کے بغیر زکات شرعاً ادا نہیں ہوتی، لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر  ظاہر نے برائے راست زکات کی رقم سے ہال کا کرایہ دیا ہے تو ایسی صورت میں ظاہر کی زکات ادا نہیں ہوئی، ظاہر کے ذمہ اتنی مقدار کی دوبارہ زکات ادا کرنا لازم ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

" أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى - هذا في الشرع كذا في التبيين."

(كتاب الزكاة، الباب الأول في تفسيرها وصفتها وشرائطها، ج: ۱، صفحہ: ۱۷۰، ط: دارالفکر-بیروت)

وفیہ ایضاً:

"و لا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه، ولا يجوز أن يكفن بها ميت، ولا يقضى بها دين الميت كذا في التبيين، ولا يشترى بها عبد يعتق، ولا يدفع إلى أصله، وإن علا، وفرعه، وإن سفل كذا في الكافي".

(كتاب الزكاة، الباب السابع في المصارف، ج: ۱، صفحہ: ۱۸۸، ط: دار الفكر- بیروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509100544

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں