بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

زکات ادا کرنے کا وکیل بناتے ہوئے پیسوں کے ذاتی استعمال کی بھی اجازت دی


سوال

میرے چاچو نے مجھے پیسے دے کر کہا کہ بیٹا یہ رمضان میں زکات دے دینا اور جب تک ان پیسوں سے تمہیں کام کرنا ہے تو کرلو، مجھے مسئلہ نہیں ہے تو کیا اب میں ان پیسوں سے کام کر سکتا ہوں ؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مذکورہ رقم آپ کے پاس قرض ہے، نیز آپ اپنے چچا کی طرف سے اتنی ہی رقم کے بقدر زکات دینے کے وکیل بھی ہیں؛  لہذا اس رقم کو آپ اپنے کام میں استعمال کرسکتے ہیں ۔ تاہم رمضان میں اتنی ہی رقم چچا کی طرف سے زکات میں ادا کرنی ہوگی۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7 / 396):

"حكم القرض فهو ثبوت الملك للمستقرض في المقرض للحال، وثبوت مثله في ذمة المستقرض للمقرض للحال."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144207200049

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں