بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 شعبان 1445ھ 28 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

زکات کا سال مکمل ہونے سے پہلے زکات دینا


سوال

کیا سال مکمل  ہونے سے پہلے  زکات  دے  سکتے ہیں ؟ یعنی پچھلے سال کی زکات دے چکا ہوں، آئندہ سال کی زکات کسی کو دینا چاہتا ہوں۔

جواب

صورتِ  مسئولہ میں آپ زکات کا سال مکمل ہونے سے  پہلے اپنے مال کی زکات ادا کرسکتے ہیں۔ البتہ رقم دینے سے  پہلے  یا دیتے وقت زکاۃ کی نیت ضروری ہے، رقم دے دینے کے بعد نیت کا اعتبار نہیں ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(ولو عجل ذو نصاب) زكاته (لسنين أو لنصب صح)؛ لوجود السبب.

(قوله: ولو عجل ذو نصاب) قيد بكونه ذا نصاب؛ لأنه لو ملك أقل منه فعجل خمسة عن مائتين، ثم تم الحول على مائتين لايجوز". (293/2 ط: سعید)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144206200763

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں