بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

زکاۃ کا حساب اسلامی مہینوں سے لگایا جائے یا شمسی مہینوں سے؟


سوال

زکاۃ نکالنے کا مہینہ اسلامی لازمی ہے یا  انگریزی مہینے میں نکال سکتے ہیں، جیسے جنوری، اپریل میں نکال سکتے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ شرعی احکامات میں قمری سال کا اعتبار کیا جاتاہے، جیساکہ رمضان المبارک کے روزے اور حج کی عبادت سے واضح ہے، نیز بلوغت کی عمر بھی قمری اعتبار سے شمار کی جاتی ہے، اسی طرح زکاۃ کی ادائیگی کے وجوب کا تعلق بھی قمری سال سے ہے، لہٰذا زکاۃ کے سال کے مکمل ہونے کا  حساب قمری مہینے سے کیا جائے گا، نہ کہ شمسی تاریخوں سے، اس لیے کہ شمسی سال قمری سال سے تقریباً   گیارہ دن بڑا ہوتا ہے، تاریخ کی تبدیلی سے ملکیت میں موجود مالیت میں کمی بیشی ہوسکتی ہے، نتیجتاً زکات کی مقررہ مقدار میں کمی بیشی کا امکان رہتاہے، جو ذمہ میں باقی رہ گئی تو مؤاخذہ ہوسکتاہے، لہذا زکاۃ کے سالوں کا حساب قمری (اسلامی) مہینوں کے اعتبار سے ہی کرنا چاہیے۔ البتہ زکاۃ کی واجب مقدار ادا کرنے میں چوں کہ یہ اختیار ہے کہ تھوڑی تھوڑی کرکے وقتاً فوقتاً ادا کردے، اس لیے ادائیگی کے وقت شمسی مہینوں کی تاریخوں کے اعتبار سے نکالی جاسکتی ہے، لیکن یہ ملحوظ رہے کہ زکاۃ کے وجوب کا تعلق قمری تاریخ سے ہی ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 294):

(وحولها) أي الزكاة (قمري) بحر عن القنية (لا شمسي).

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144108200983

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں