بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1441ھ- 04 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

زکوۃ دینے کے بعد سید ہونے کا پتا چلا تو کیا حکم ہے؟


سوال

ایک شخص نے عباسی خاندان کے فرد کو لاعلمی میں زکاۃ کی رقم دے دی، اُسے معلوم نہیں تھا کہ عباسی کو زکاۃ نہیں دیتے۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا اُس شخص کی زکاۃ ادا ہوگئی یا نہیں؟ اگر نہیں تو پھر اُس سال کی زکاۃ کا کیا حکم ہے؟

جواب

 اگر کوئی شخص زکاۃ ادا کرنے سے پہلے مصرف کی تعیین میں تدبر کر لے اور سوچ سمجھ کر  اور غور و فکر کر کے کسی کو زکاۃ دے دے پھر معلوم ہو کہ وہ ہاشمی، سید  یا عباسی تھا تو ایسی صورت میں زکاۃ ادا کرنے والے کی زکاۃ ادا ہو جائے گی اور زکاۃ دوبارہ ادا کرنے کی ضرورت نہ ہو گی۔

لیکن اگر زکاۃ کی ادائیگی سے پہلے مصرف کی تعیین میں تدبر ہی نہ کیا ہو اور بعد میں عباسی ہونے کا پتا چلے تو ایسی صورت میں زکاۃ کی ادائیگی درست نہ ہو گی اور زکاۃ دوبارہ ادا کرنا ہو گی۔

الفتاوى الهندية (1/ 190):
"وأما إذا ظهر أنه غني أو هاشمي أو كافر أو مولى الهاشمي أو الوالدان أو المولودون أو الزوج أو الزوجة فإنه يجوز وتسقط عنه الزكاة في قول أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى".

الفتاوى الهندية (1/ 190):
"وإذا دفعها، ولم يخطر بباله أنه مصرف أم لا فهو على الجواز إلا إذا تبين أنه غير مصرف، وإذا دفعها إليه، وهو شاك، ولم يتحر أو تحرى، ولم يظهر له أنه مصرف أو غلب على ظنه أنه ليس بمصرف فهو على الفساد إلا إذا تبين أنه مصرف، هكذا في التبيين". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144109201722

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں