بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو القعدة 1445ھ 29 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

زکوۃ ادا نہ کرنے والے کی کیا وعید ہے؟


سوال

زکوۃ ادا نہ کرنے والے کی کیا وعید ہے؟

جواب

قرآن و حدیث میں زکوۃ ادا نہ کرنے والوں کے لیے بہت وعیدیں آئی ہیں، چناں چہ ارشادِ خداوندی ہے:

"يَوْمَ يُحْمى عَلَيْها فِي نارِ جَهَنَّمَ ‌فَتُكْوى ‌بِها جِباهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ هَذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنْفُسِكُمْ فَذُوقُوا ما كُنْتُمْ تَكْنِزُونَ." (التوبة، آيت نمبر 35)

يعني: جو لوگ زکاة ادا نہیں کرتے اُن کے مال کو جہنم کی آگ میں گرم کر کے اِس سے اُن کی پیشانیوں، پہلووٴں اور پیٹھوں کو داغاجائے گا۔

دوسری جگہ ارشاد ہے:

"‌سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيامَةِ." (آلِ عمران، آیت نمبر 180)

یعنی: ایسے شخص کے مال کو طوق بنا کے اُس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا۔

بخاري شريف ميں هے:

"عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من آتاه الله مالا، فلم يؤد زكاته مثل له ماله يوم القيامة شجاعا أقرع له زبيبتان يطوقه يوم القيامة، ثم يأخذ بلهزمتيه - يعني بشدقيه - ثم يقول أنا مالك أنا كنزك، ثم تلا: (لا يحسبن الذين يبخلون) " الآية."

(کتاب الزکوۃ، باب اثم مانع الزکوۃ، جلد:2، صفحہ: 106، طبع: سلطانیہ)

يعني: ایسے شخص کا مال قیامت کے دن ایسے زہریلے ناگ کی شکل میں آئے گا ،جس کے سر کے بال جھڑ چکے ہوں گے ، اور اس کی آنکھوں کے اوپر دو سفید نقطے ہوں گے،پھر وہ سانپ اُس کے گلے کا طوق بنا دیا جائے گا، پھر وہ اس کی دونوں باچھیں پکڑے گا(اور کاٹے گا) اور کہے گا کہ میں تیرا ما ل ہوں ، میں تیرا جمع کیاہوا خزانہ ہوں۔

مسلم شریف میں ہے:

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما من صاحب ذهب ولا فضة، لا يؤدي منها حقها، إلا إذا كان يوم القيامة، صفحت له صفائح من نار، فأحمي عليها في نار جهنم، فيكوى بها جنبه وجبينه وظهره ..."

(کتاب الزکوۃ، باب اثم مانع الزکوۃ، جلد:2، صفحہ: 680، طبع: مطبعة عيسى البابي الحلبي)

یعنی: ایسے شخص کے لیے آگ کی چٹانیں بچھائی جائیں گی،اور اُن سے ایسے شخص کے پہلو ، پیشانی اور سینہ کو داغا جائے گا۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144307101015

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں