بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1445ھ 19 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

زکوۃ ادا نہ کرنے والوں کو قربانی میں شریک کرنے کا حکم


سوال

سود کے مال والے کو ہم قربانی میں شامل نہیں کرسکتے اجتماعی میں، اور اگر وہ اکیلے کرتا ہے تو علماء کہتے ہیں نہیں ہوگی قربانی حرام مال جو ہوا۔ آپ یہ بتائیں جو زکوۃ اور عشر نہیں نکالتا اس پر کیا حکم ہوگا، زکوۃ یا عشر نکالے بغیر  قربانی کا کیا حکم ہوگا؟

جواب

 واضح رہے کہ مال حرام واجب التصدق ہے، اس پر نہ تو قربانی ہے اور نہ ہی زکاۃ، باقی مال حلال پر قربانی اور زکاۃ آتی ہے۔ زکوٰۃ فرض ہونے کے بعد اس کو ادا نہ کرنے پر قرآن وحدیث میں بڑی سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ كَثِيراً مِنَ الْأَحْبارِ وَالرُّهْبانِ لَيَأْكُلُونَ أَمْوالَ النَّاسِ بِالْباطِلِ وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلا يُنْفِقُونَها فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذابٍ أَلِيمٍ(34)يَوْمَ يُحْمى عَلَيْها فِي نارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوى بِها جِباهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ هَذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنْفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُونَ(35)."(التوبة: 34،35)

ترجمہ :"جو لوگ سونا یا چاندی جمع کرکے رکھتے ہیں اور ان کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے (یعنی زکاۃ نہیں نکالتے) سو آپ ان کو ایک بڑے دردناک عذاب کی خبر سنادیجیے، جو اس روز واقع ہوگا کہ ان (سونے وچاندی) کو دوزخ کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر ان سے لوگوں کی پیشانیوں اور ان کی کروٹوں اور ان کی پشتوں کو داغا جائے گا۔ اور یہ جتایا جائے گا کہ یہ وہ ہے جس کو تم اپنے واسطے جمع کرکے رکھتے تھے۔ سو اب اپنے جمع کرنے کا مزہ چکھو۔"

سنن ابي داؤد ميں هے:

"عن عمرو بن شعيب، عن أبيه عن جده: أن امرأة أتت رسول الله  صلى الله عليه وسلم ومعها ابنة لها، وفي يد ابنتها مسكتان غليظتان من ذهب، فقال لها: "أتعطين زكاة هذا؟ " قالت: لا، قال: "أيسرك أن يسورك الله بهما يوم القيامة سوارين من نار؟ " قال: فخلعتهما فألقتهما إلى النبي صلى الله عليه وسلم ، وقالت: هما لله ولرسوله."

(كتاب الزكاة ، باب الكنز ماهو؟ و زكاة الحلي جلد3 ص: 13 ط: دارالرسالة العالمية)

ترجمہ:"حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی صحیح حدیث ہے کہ ایک خاتون نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور ان کی بیٹی کے ہاتھ  میں سونے کے دو موٹے کنگن تھے، اسے دیکھ  کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس کی زکوٰۃ دیتی ہو؟ اس نے جواب دیا: نہیں، آپ نے فرمایا: "کیا تم کو یہ اچھا لگے گا کہ اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تمہیں آگ کے دو کنگن پہنائے؟ چنانچہ اس نے وہیں دونوں کنگن نکال دیے اور کہا: یہ دونوں اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔"

لہذا  ایسے لوگ زکوٰۃ ادانہ کرنے کی وجہ سے گناہ گار  ہیں،  لیکن اگر یہ لوگ دوسرے فرائض بجا لارہے ہیں تو اس کا  فریضہ ادا ہوجائے گا، اس لیے ان کی قربانی درست ہے اور ان کو اجتماعی  قربانی میں شریک کرنا بھی درست ہے، ان کی شرکت سے دیگر لوگوں کی قربانی خراب نہیں ہوگی، کیوں کہ زکوٰۃ ادا نہ کرنے سے تمام مال حرام نہیں ہوتا، ہاں جتنی مقدار زکوٰۃ واجب ہے وہ  مستحق تک پہنچانا ان پر فرض ہے۔

فقط و الله اعلم 


فتوی نمبر : 144412100546

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں