بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 شعبان 1445ھ 28 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

زینب نام رکھ کر تبدیل کرنا


سوال

میں نے اپنی بیٹی کا نام ’’زینب عامر‘‘  رکھا ہے، یہ اکثر بیمار رہتی ہے، اس کی اتنی صحت بھی نہیں ہو رہی،  سب کہتے ہیں، اس کا نام بدلو ، میں نے رسول اللہ ﷺ کی نسبت سے نام رکھا تھا،  میں اس کے ساتھ  کوئی نام لگانا چاہتی ہوں،  جیسے ’’اسوہ زینب‘‘ ،  ’’مسفرہ زینب‘‘؛ تاکہ نسبت بھی نہ ٹوٹے۔ راہ نمائی فرمائیں!

جواب

’’زینب‘‘  نام میں کوئی خرابی نہیں ہے، رسول اللہ ﷺ کی ازواجِ مطہرات میں سے دو زوجہ اور آپ ﷺ کی ایک صاحب زادی اور دیگر صحابیات کا یہ نام رہاہے، صحابیہ کا نام ہونے کی وجہ سے بابرکت بھی ہے۔ اس نام کے اثر کا نظریہ رکھے بغیر اگر  آپ زینب کے ساتھ کسی صحیح لفظ کا اضافہ کرنا چاہیں تو کرسکتی ہیں۔ سوال میں مذکورہ دونوں لفظ درست ہیں، ان میں سے کسی کا اضافہ بھی کرسکتی ہیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109201549

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں