بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1445ھ 27 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

ضحوہ کبری کے وقت صلاۃ التسبیح پڑھنا


سوال

کیا ضحوہ کبریٰ کے وقت صلوٰۃ التسبیح پرھنا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ تین اوقات کے علاوہ بقیہ تمام اوقات میں نوافل پڑھنا جائز ہے:

  1. طلوعِ صبحِ صادق سے لے کر سورج نکلنےتک۔
  2. استواء شمس کے وقت (جسے عرف عام میں زوال کا وقت کہا جاتا ہے)۔
  3. عصر کی نماز کے بعد سے لے سورج غروب ہوجانے تک۔

اور ضحوہ کبری صبح صادق سے لے کر غروبِ آفتاب کے درمیان کے وقت کو کہا جاتا ہے، جسے نصف نہارِ شرعی بھی کہا جاتا ہے اور یہ وقت نماز کے مکروہ اقات میں داخل نہیں ہے، لہٰذا ضحوہ کبری کے وقت صلاۃ التسبیح پڑھنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے، البتہ شرط یہ ہے کہ وہ نماز استواءِ شمس سے پہلے پہلے ختم ہو۔

رد المحتار میں ہے:

"(قوله: إلى الضحوة الكبرى) ‌المراد ‌بها ‌نصف ‌النهار ‌الشرعي والنهار الشرعي من استطارة الضوء في أفق المشرق إلى غروب الشمس والغاية غير داخلة في المغيا كما أشار إليه المصنف بقوله لا عندها. اهـ."

(كتاب الصوم، ج:2، ص:377، ط:سعيد)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"‌تسعة ‌أوقات ‌يكره ‌فيها ‌النوافل وما في معناها لا الفرائض. هكذا في النهاية والكفاية فيجوز فيها قضاء الفائتة وصلاة الجنازة وسجدة التلاوة. كذا في فتاوى قاضي خان.

منها ما بعد طلوع الفجر قبل صلاة الفجر. كذا في النهاية والكفاية يكره فيه التطوع بأكثر من سنة الفجر....

ومنها ما بعد صلاة العصر قبل التغير. هكذا في النهاية والكفاية لو افتتح صلاة النفل في وقت مستحب ثم أفسدها فقضاها بعد صلاة العصر قبل مغيب الشمس لا يجزيه هكذا في محيط السرخسي.

ومنها ما بعد الشمس قبل صلاة المغرب...."

(كتاب الصلاة، ج:1، ص:52، ط:دار الفكر)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144509102196

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں