بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو الحجة 1445ھ 22 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

ضعیف حدیث کا ضعف بتائے بغیر عوام میں بیان کرنا


سوال

کیا کسی عالم کاحدیث کی صحت بتائے بغیر ضعیف حدیث کو عوام میں بیان کرنا درست ہے؟ اگر اس طرح عوام بھی اس ضعیف حدیث کو آگے سنائیں یا بڑھائیں جیسا کہ آج کل عموماً سوشل میڈیا کے ذریعہ ہوتا بھی ہے۔ تو کیا یہ اس حدیث کے زمرے میں آئے گا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹ منسوب کرنے پر وعید آئی ہے یا یہ وعید صرف موضوع حدیث کے لیے ہے؟

جواب

اگر کوئی حدیث محدثین وفقہاء کے نزدیک واقعۃ ً ضعیف ہو تو  اسے فضا ئلِ اعمال ،ترغیب و ترہیب ،قصص اور مغازی وغیرہ میں  ذکر کرنا جائز ہے، اور اس کے ضعف کو بیان کرنا ضروری نہیں ہے، بشرط یہ کہ وہ حدیث  موضوع نہ ہو ،  شدید ضعیف نہ ہو، اس کی اصل شریعت میں موجود ہو اور  اس حدیث میں وارد فضلیت یا وعید  کے ثابت ہونے کا مکمل یقین نہ کیا جائے ،بلکہ احتیاطا اس پر عمل کیا جائے۔

نیز اگر سند کے بغیر بیان کیا جائے تو   جزم اور یقین کے ساتھ  یہ نہ کہا جائے کہ : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے، بلکہ یوں کہا جاسکتا ہے کہ  حدیث مبارک میں یہ آیا ہے، یا  آپ   صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت کی گئی ہے وغیرہ، یعنی اس کو ایسے الفاظ سے بیان کرنا چاہیے کہ جس میں جزم اور یقین نہ ہو۔

باقی موضوع حدیث کی وضع کو بتائے بغیر بیان کرنا  جائز نہیں ہے اور سوال میں ذکر کردہ وعید کا تعلق بھی  موضوع حدیث سے ہے۔

التقريب والتيسير للنووي ميں هے:

"ويجوز عند أهل الحديث وغيرهم التساهل في الأسانيد ورواية ما سوى الموضوع من الضعيف والعمل به من غير بيان ضعفه في غير صفات الله تعالى والأحكام كالحلال والحرام وغيرهما وذلك كالقصص، وفضائل الأعمال، والمواعظ وغيرها مما لا تعلق له بالعقائد والأحكام، والله أعلم."

 (1 / 48،النوع الثاني والعشرون، فرع، ط: دار الكتاب العربي، بيروت)

الشذا الفياح من علوم ابن الصلاح  ميں هے:

"الثاني: يجوز عند أهل الحديث وغيرهم التساهل في الأسانيد ورواية ما سوى  الموضوع من أنواع الأحاديث الضعيفة من غير اهتمام ببيان ضعفها فيما سوى صفات الله تعالى وأحكام الشريعة من الحلال والحرام وغيرهما.  وذلك كالمواعظ والقصص وفضائل الأعمال وسائر فنون الترغيب والترهيب وسائر ما لا تعلق له بالأحكام والعقائد وممن روينا عنه التنصيص على التساهل في نحو ذلك عبد الرحمن بن مهدي وأحمد بن حنبل."

(1 / 232، النوع الثاني والعشرون: معرفة المقلوب، ط: مکتبة الرشد)

حاشية ابن عابدين میں ہے :

"شرط العمل بالحديث الضعيف عدم شدة ضعفه، وأن يدخل تحت أصل عام، و أن لايعتقد سنية ذلك الحديث. وأما الموضوع فلا يجوز العمل به بحال ولا روايته، إلا إذا قرن ببيانه.

(قوله: و أن لايعتقد سنية ذلك الحديث) أي سنية العمل به. و عبارة السيوطي في شرح التقريب: الثالث أن لايعتقد عند العمل به ثبوته بل يعتقد الاحتياط، و قيل: لايجوز العمل به مطلقًا، و قيل: يجوز مطلقًا. اهـ  (قوله: أما الموضوع) أي المكذوب على رسول الله - صلى الله عليه وسلم - وهو محرم إجماعا، بل قال بعضهم: إنه كفر. قال: - عليه الصلاة والسلام - «من قال علي ما لم أقل فليتبوأ مقعده من النار» ط (قوله: بحال) أي ولو في فضائل الأعمال. قال ط أي حيث كان مخالفا لقواعد الشريعة، وأما لو كان داخلا في أصل عام فلا مانع منه لا لجعله حديثا بل لدخوله تحت الأصل العام اهـ تأمل (قوله: إلا إذا قرن) أي ذلك الحديث المروي ببيانه أي بيان وضعه، أما الضعيف فتجوز روايته بلا بيان ضعفه، لكن إذا أردت روايته بغير إسناد فلا تقل قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - كذا وما أشبهه من صيغ الجزم، بل قل روي كذا وبلغنا كذا أو ورد أو جاء أو نقل عنه وما أشبهه من صيغ التمريض، وكذا ما شك في صحته وضعفه كما في التقريب."

(1/ 128، کتاب الطھارۃ، سنن الوضو، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144403101658

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں