بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ربیع الاول 1444ھ 02 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

یوٹیوب پر قرآن مجید کی آڈیو انگلش ترجمہ کے ساتھ اَپ لوڈ کرنا


سوال

 میں یو ٹیوب پر قرآن مجید اَپ لوڈ کرنا چا ہتا ہوں، آڈیو اور انگلش  ترجمے کے ساتھ ، یہ کام جائز ہے یا نا جائز؟ اور  یو ٹیوب   مجھے اگر اس کے بدلے پیسہ دیتا ہے یہ میرے لیے حلال ہے یا حرام؟

جواب

یوٹیوب پر  چینل بنائے بغیر قرآن  مجید  کی آڈیو ، انگلش ترجمہ کے ساتھ اپ لوڈ کرنے میں درج ذیل شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے:

1۔  قرآن مجید کی ریکارڈنگ مستند   قاری کی ہو، غلط خواں کی آڈیو   اَپ لوڈ کرنا جائز نہیں ہوگا۔

2۔ انگلش ترجمہ کسی  ماہر، مستند اور متبعِ  سنت عالمِ  دین کا ہو اور نظر ثانی شدہ ہو، غیر مستند ترجمہ اَپ لوڈ کرنے سے اجتناب ضروری ہے۔

3۔  درميان ميں نامناسب اشتہارات  یا اس طرح اشتہار نہ آئے جس سے قرآن سے اعراض کی صورت پیدا ہو۔

باقی   یوٹیوب پر چینل بناکر کمانے کے بارے  میں   بھی شرعی حکم یہ ہے کہ اگر چینل پر ویڈیو اَپ لوڈ کرنے والا:

1۔  جان د ار  کی تصویر والی ویڈیو اَپ لوڈ کرے، یا  اس ویڈیو  میں  جان دار کی تصویر ہو، یا اس کو لائیو چلائے۔

2۔ یا اس ویڈیو میں میوزک  اور موسیقی ہو۔

3۔ یا اشتہار  غیر شرعی ہو  ۔

4۔  یا  کسی بھی غیر شرعی شے کا اشتہار ہو۔

5۔ یا اس کے لیے کوئی غیر شرعی معاہدہ کرنا پڑتا ہو۔

تو اس کے ذریعے پیسے کمانا جائز نہیں ہوتا۔

عام طور پر اگر ویڈیو میں مذکورہ خرابیاں  نہ بھی ہوں تب بھی یوٹیوب کی طرف سے لگائے جانے والے  اشتہار میں یہ خرابیاں پائی جاتی ہیں، اور عام طور پر  یوٹیوب کو  اگر  ایڈ چلانے کی اجازت دی جائے تو اس کے بعد وہ ملکوں کے حساب سے اور  ڈیوائس استعمال کرنے والے کی سرچنگ بیس اور لوکیشن پر مختلف ایڈ چلاتے ہیں، مثلاً اگر  پاکستان میں اسی ویڈیو پر وہ کوئی اشتہار چلاتے ہیں، تو مغربی ممالک میں اس پر وہ کسی اور قسم کا اشتہار چلاتے ہیں،  اسی طرح ایک طرح کے یوزر کی ڈیوائس پر ایک اشتہار چلتاہے تو دوسرے یوزر کی ڈیوائس پر اس کے سرچ کی بنیاد پر دوسرا اشتہار چلتاہے، جس  میں بسااوقات حرام اور  ناجائز چیزوں کی تشہیر بھی کرتے ہیں،  اور اکثر اوقات یہ اشتہار جان دار کی تصویر پر مشتمل ہوتے ہیں، ان تمام مفاسد کے پیشِ نظر یوٹیوب پر ویڈیو اَپ لوڈ کرکے پیسے کمانے کی شرعاً اجازت نہیں  ہے۔

نیز یوٹیوب پر چینل بنانے والا چینل بناتے وقت یوٹیوب انتظامیہ سے  terms and conditions کے تحت شروع میں ہی یہ معاہدہ کرلیتاہے کہ چینل کے سبسکرائبر اور ویورز مخصوص مدت میں مخصوص تعداد تک پہنچ جائیں گے تو یوٹیوب انتظامیہ اس پر جس طرح کے چاہے اشتہارات چلانے کی مجاز ہوگی، نیز آمدن کے لیے اجارہ کا جو معاہدہ فریقین کے درمیان طے پاتاہے، اس میں اجرت بھی مجہول ہوتی ہے، لہٰذا یوٹیوب پر چینل بنانے کا موجودہ معاہدہ ہی  شرعًا درست نہیں  ہے، اور اس سے حاصل شدہ آمدن بھی حلال نہیں ہے۔

خلاصہ یہ کہ آمدنی کا مذکورہ طریقہ مختلف مفاسد کی بنا پر شریعت کے مطابق نہیں ہے، بلکہ شریعت کے روح کے منافی ہے، لہذا اس کے بجائے آمدنی کے اور ذرائع اختیار کرنے چاہیے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144211200484

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں