بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

یوٹیوب پر گیمنگ چینل بنانا


سوال

کیا  youtube پر گیمنگ چینل کھولنا اور اس سے کمانا جائز ہے؟ بعض حضرات اسے حلال کہتے ہیں، اس کے بارے میں آپ  کیا کہتے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ  کھیلوں کے جواز کے حوالے سے شرعی ضابطہ یہ ہے:

1۔۔   وہ کھیل بذاتِ خود جائز ہو، اس میں کوئی ناجائز   بات نہ ہو۔

2۔۔ اس کھیل میں کوئی دینی یا دنیوی منفعت مثلاً جسمانی  ورزش وغیرہ ہو، محض لہو لعب یا وقت گزاری کے لیے نہ کھیلا جائے۔

3۔۔ کھیل میں غیر شرعی امور (جوے یا کسی بھی ناجائز عقد) کا ارتکاب نہ کیا جاتا  ہو۔

4۔۔ کھیل میں اتنا غلو نہ کیا جائے  کہ جس سے شرعی فرائض میں کوتاہی یا غفلت پیدا ہو۔

موجودہ دور کے ڈیجیٹل گیمز میں مذکورہ بالا شرائط  چوں کہ مفقود ہیں، لہذا یوٹیوب پر اس مقصد کے لیے چینل بنانا جائز نہیں اور  اس کی کمائی بھی حلال نہ ہوگی۔

کھیلوں اور یوٹیوب چینل کے حوالے سے دیکھیے:

یوٹیوب چینل پر بیانات وغیرہ اَپ لوڈ کرنا اور اس کی کمائی کا حکم
لوڈو (Ludo) گیم کا شرعی حکم

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108201383

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں