بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 رجب 1444ھ 27 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

یوٹیوب پر چینل بنانا / آن لائن خرید و فروخت


سوال

1: یوٹیوب چینل یا فیس بک پیج بناکر ان پر تصاویر اور ویڈیوز دینا، جس سے (ایک خاص تعداد میں ویورز اور سبسکرائبرز بننے کے بعد)کمائی بھی ہوتی ہے، ان چینلز اور پیجز سے جو کمائی حاصل ہوتی ہےوہ کمائی کی رقم جائز ہے یا نہیں؟۔

2: فیسبک پیج یا کوئی دوسرے آن لائن ایپلیکیشن یاویب سائٹ کے ذریعے مختلف اشیاء بیچنا کیسا ہے؟، ان میں بعض دفعہ بیچنے والے کے پاس بیچنے والی چیز موجود ہوتی ہے،اور بعض دفعہ آن لائن آرڈر ملنے کے بعد خرید کر مطلوبہ شخص کووہ چیز روانہ کی جاتی ہے۔ برائے مہربانی دونوں صورتوں کی رہنمائی فرمائیں۔

جواب

1۔ یوٹیوب پر چینل بناکر ویڈیو اَپ لوڈ کرنے کی صورت میں اگر اس چینل کے فالوورز زیادہ ہوں تو یوٹیوب چینل ہولڈر کی اجازت سے اس میں اپنے مختلف کسٹمر کے اشتہار چلاتا ہے، اور اس کی ایڈورٹائزمنٹ اور مارکیٹنگ کرنے پر ویڈو اَپ لوڈ کرنے والے کو بھی پیسے دیتا ہے۔ اس کا شرعی حکم یہ ہے کہ اگر چینل پر ویڈیو اَپ لوڈ کرنے والا:

1۔  جان د ار  کی تصویر والی ویڈیو اپ لوڈ کرے، یا  اس ویڈیو  میں  جان دار کی تصویر ہو۔

2۔ یا اس ویڈیو میں میوزک  اور موسیقی ہو۔

3۔ یا اشتہار  غیر شرعی ہو  ۔

4۔  یا  کسی بھی غیر شرعی شے کا اشتہار ہو۔

5۔ یا اس کے لیے کوئی غیر شرعی معاہدہ کرنا پڑتا ہو۔

تو اس کے ذریعے پیسے کمانا جائز نہیں ہے۔

عام طور پر اگر ویڈیو میں مذکورہ خرابیاں  نہ بھی ہوں تب بھی یوٹیوب کی طرف سے لگائے جانے والے  اشتہار میں یہ خرابیاں پائی جاتی ہیں، اور ہماری معلومات کے مطابق یوٹیوب کو  اگر  ایڈ چلانے کی اجازت دی جائے تو اس کے بعد وہ ملکوں کے حساب سے مختلف ایڈ چلاتے ہیں، مثلاً اگر  پاکستان میں اسی ویڈیو پر وہ کوئی اشتہار چلاتے ہیں، مغربی ممالک میں اس پر وہ کسی اور قسم کا اشتہار چلاتے ہیں، جس  میں بسااوقات حرام اور ناجائز چیزوں کی تشہیر بھی کرتے ہیں، ان تمام مفاسد کے پیشِ نظر یوٹیوب پر ویڈیو اپ لوڈ کرکے پیسے کمانے کی شرعاً اجازت نہیں ہے۔

رد المحتار  میں ہے:

"وظاهر كلام النووي في شرح مسلم : الإجماع علٰی تحریم تصویر الحیوان، وقال: وسواء لما یمتهن أو لغیره فصنعه حرام لکل حال، لأن فیه مضاهاة لخلق اللّٰہ".

( رد المحتار علی الدر المختار،فرع لا بأس بتكليم المصلي وإجابته برأسه، 674/1،  ط: سعید)

وفیہ ایضا:

"قال ابن مسعود: صوت اللهو و الغناء ينبت النفاق في القلب كما ينبت الماء النبات. قلت: و في البزازية: إستماع صوت الملاهي كضرب قصب و نحوه حرام ؛لقوله عليه الصلاة و السلام:  استماع الملاهي معصية، و الجلوس عليها فسق، و التلذذ بها كفر؛ أي بالنعمة".

(كتاب الحظر والإباحة، 349،348/6، ط: سعيد)

2۔ آن لائن کاروبار میں اگر ’’مبیع‘‘ (جو چیز فروخت کی جارہی ہو) بائع (بیچنے والے) کی ملکیت میں موجود ہو اور تصویر دکھلا کر سودا کیا جا رہا ہو تو ایسی صورت میں بھی آن لائن خریداری شرعاً درست ہوگی، لیکن اگر مبیع بیچنے والے کی ملکیت میں نہیں ہے اور وہ محض اشتہار، تصویر دکھلاکر کسی کو وہ سامان فروخت کرتا ہو (یعنی سودا کرتے وقت یوں کہے کہ: ’’فلاں چیز میں نے آپ کو اتنے میں بیچی‘‘، وغیرہ) اور بعد میں وہ سامان کسی اور دکان،اسٹوروغیرہ سے خرید کردیتا ہو تو یہ صورت بائع کی ملکیت میں’’مبیع‘‘ موجود نہ ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ہے؛ اس لیے کہ جو چیز فروخت کرنا مقصود ہو وہ بائع کی ملکیت یا وکیل کے قبضے میں ہونا شرعاً ضروری ہوتا ہے۔

اس کے جواز کی صورتیں درج ذیل ہیں:
1:- بائع مال پہنچنے سے پہلے بیع نہ کرے، بلکہ وعدۂ بیع کرے،بیع مال پہنچنے کے بعد کرے اور بائع مشتری سے یہ کہہ دے کہ یہ چیز اگر آپ مجھ سے خریدیں گے تو میں آپ کو اتنے کی دوں گا۔

 2:-آن لائن کام کرنے والا فرد یا کمپنی ایک فرد (مشتری) سے آرڈر لے اورمطلوبہ چیز کسی دوسرے فرد یا کمپنی سے لے کر خریدار تک پہنچائے اور اس عمل کی اُجرت مقرر کرکے لے تو یہ بھی جائز ہے، یعنی بجائے اشیاء کی خرید وفروخت کے بروکری كرے اور اس کی اُجرت مقرر کرکے یہ معاملہ کرے۔ 

3:-جہاں سے مال خریدا ہے، وہاں کسی کو یا مال بردار کمپنی کو مال پر قبضہ کا وکیل بنادے، اس کے قبضے کے بعد بیع جائز ہے۔ البتہ جواز کی ہر صورت میں خریدار کو مطلوبہ چیز ملنے کے بعد خیارِ رؤیت حاصل ہوگا، یعنی جب ’’مبیع‘‘ خریدار کو مل جائے تو دیکھنے کے بعد اس کی مطلوبہ شرائط کے مطابق نہ ہونے کی صورت میں اُسےواپس کرنے کااختیار حاصل ہوگا۔

حدیث شریف میں ہے:

’’عن ابن عباسؓ، أن رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم قال: ’’من ابتاع طعاما فلا يبعہ حتی يستوفيہ‘‘، قال ابن عباسؓ: وأحسب کل شيء مثلہ.‘‘

 (الصحيح لمسلم، رقم الحديث:1525 )

’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: جب کوئی کھانے کی چیز خریدے تو اس وقت تک نہ بیچے جب تک اس پر مکمل قبضہ نہ کرلے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ: میں سمجھتا ہوں کہ ہر چیز کا یہی حکم ہے۔‘‘

’’فتح القدیر‘‘ میں ہے:

"ومن اشتری شيئا مما ينقل ويحول لم يجز لہ بيعہ حتی يقبضہ، لأنہ عليہ الصلاۃ والسلام نہٰی عن بيع ما لم يقبض ولأن فيہ غرر انفساخ العقد علی اعتبار الہلاک... ثم علل الحديث (لأن فيہ غرر انفساخ العقد) الأول (علی اعتبار ہلاک المبيع) قبل القبض فيتبين حينئذٍ أنہ باع ملک الغير بغير إذنہٖ وذٰلک مفسد للعقد، وفي الصحاح أنہ صلی اللہ عليہ وسلم نہٰی عن بيع الغرر."

(فتح القدير لابن ہمام، 512،510/6، دار الفکر)

4:- آن لائن خرید وفروخت کرتے ہوئے ’’مبیع‘‘ کی تصویر دکھانا بعینہ نمونہ دکھانے کی طرح نہیں ہے، کیونکہ تصویر کسی شئے کی مثل تو ہے، عین نہیں ہے اور مثل‘ عین کا غیر ہے، لہٰذا حقیقتاً مبیع دیکھ لینے کے بعد خریدار کو خیارِ رؤیت حاصل ہوگا۔

كما يستفاد من العبارات الآتيه:

"(لا) تحرم (المنظور إلی فرجہا الداخل) إذا رآہ (من مرآۃ أو ماء) لأن المرئي مثالہ (بالانعکاس) لا ہو۔ (قولہ: لأن المرئي مثالہ إلخ) يشير إلی ما في الفتح من الفرق بين الرؤيۃ من الزجاج والمرآۃ، وبين الرؤيۃ في الماء، ومن الماء حيث قال: کأن العلۃ واللہ سبحانہ وتعالی أعلم أن المرئي في المرآۃ مثالہ لا ہو وبہٰذا عللوا الحنثَ فيما إذا حلف لا ينظر إلی وجہ فلان، فنظرہ في المرآۃ أو الماء وعلی ہٰذا فالتحريم بہ من وراء الزجاج، بناء علی نفوذ البصر منہ فيری نفس المرئي بخلاف المرآۃ، ومن الماء، وہٰذا ينفي کون الإبصار من المرآۃ والماء بواسطۃ انعکاس الأشعۃ، وإلا لرآہ بعينہ بل بانطباع مثل الصورۃ فيہما، بخلاف المرئي في الماء؛ لأن البصر ينفذ فيہ إذا کان صافيا فيری نفس ما فيہ، وإن کان لا يراہ علی الوجہ الذي ہو عليہ، ولہٰذا کان لہ الخيار إذا اشتری سمکۃ رآہا في ماء بحيث تؤخذ منہ بلا حيلۃ. اہـ. وبہٖ يظہر فائدۃ قول الشارح مثالہ، لکنہ لا يناسب قول المصنف تبعا للدرر بالانعکاس، ولہٰذا قال في الفتح وہٰذا ينفي إلخ، وقد يجاب بأنہ ليس مراد المصنف بالانعکاس البناء علی القول بأن الشعاع الخارج من الحدقۃ الواقع علی سطح الصقيل کالمرآۃ والماء ينعکس من سطح الصقيل إلی المرئي، حتی يلزم أنہ يکون المرئي حينئذ حقيقتہ لا مثالہ، وإنما أراد بہ انعکاس نفس المرئي، وہو المراد بالمثال فيکون مبنيا علی القول الآخر ويعبرون عنہ بالانطباع، وہو أن المقابل للصقيل تنطبع صورتہ، ومثالہ فيہ لا عينہ، ويدل عليہ تعبير قاضي خان بقولہ؛ لأنہ لم ير فرجہا، وإنما رأی عکس فرجہا، فافہم."

(فتاویٰ شامی،  کتاب النکاح، فصل فی المحرمات،34/3، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144308101170

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں